نیویارک (پاک ٹوڈے): بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، جبکہ جوہری تنصیبات کی مرمت یا بحالی کے شواہد بھی سامنے نہیں آئے۔
سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے رافیل گروسی نے بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے عالمی معائنہ کار ایران کی متاثرہ جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔ اس صورتِ حال کے باعث جوہری مواد کی موجودہ حالت اور ممکنہ منتقلی کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری مواد کی نگرانی سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ گروسی نے ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان 2025 کے قاہرہ معاہدے پر دوبارہ عمل درآمد اور معائنہ کاروں کی واپسی پر بھی زور دیا۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی پائیدار معاہدے کے لیے مؤثر بین الاقوامی نگرانی ضروری ہے۔ رپورٹ کے مطابق عمان، پاکستان، قطر اور مصر بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔