لانگ مارچ کی کوئی خاص تیاری نہیں تھی، تاریخ تبدیل ہونے سے پارٹی کمزور ہوئی، علی امین گنڈاپور

ڈی آئی خان (پاک ٹوڈے): سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی کی کوئی خاص تیاری نہیں تھی اور تاریخ تبدیل ہونے سے پارٹی کمزور ہوئی ہے۔ ان کا یہ بیان 28 ستمبر 2026 کو سامنے آیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھے گا تو وہ مطالبات تسلیم کر لے گی۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کی رٹ نہ ہونے کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں وزراء، اراکین اور کارکنوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا حکم ملا تو وہ دوبارہ وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے حکم پر ہی وزارت اعلیٰ چھوڑی تھی، جبکہ حکومت سے مذاکرات کرنا فیصلہ سازوں کا کام ہے۔

علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ رکاوٹوں اور مزاحمت کے باوجود وہ احتجاج کے دوران 3 مرتبہ اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی۔

سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہماری ایک پارٹی ہے، ہم پختون ہیں اور گھر آئے مہمان کی قدر کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں مارچ کی تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر مقرر کی گئی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس تبدیلی کو سیاسی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی 24 گھنٹے کی کال پر مارچ کے لیے متحرک ہوسکتی ہے۔

Related posts

وفاقی وزراء مسلسل دہشت گردی کو خیبرپختونخوا حکومت سے جوڑ رہے ہیں، شفیع جان

3 ہزار سے زائد روکی گئی گاڑیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ، گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم

ملاگوری واقعہ: ڈی پی او خیبر کو پولیس ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کا حکم، 7 روز میں انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت