تہران (پاک ٹوڈے): خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، قطر کا ایک ثالثی وفد امریکا کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران پہنچا ہے، جہاں اس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کرنا ہے۔
روئٹرز نے باخبر حکام کے حوالے سے بتایا کہ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ قطری وفد نے ایرانی حکام میں سے کن شخصیات سے ملاقات کی اور ان رابطوں کا کیا نتیجہ نکلا۔
قطر کی یہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں ہٹانے، منجمد اثاثے جاری کرنے اور جنگ روکنے کی شرائط پیش کی ہیں۔
دوسری جانب امریکا چاہتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو بھی مذاکرات کا حصہ بنایا جائے، تاہم تہران اس تجویز کو متعدد بار مسترد کر چکا ہے۔