کابل (پاک ٹوڈے): افغان حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان انتظامیہ غیر ملکی انسانی امداد کی تقسیم کے عمل میں مداخلت نہیں کرتی اور نہ ہی اس امداد سے کوئی فائدہ اٹھاتی ہے۔
کابل میں آج ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ذبییح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی انسانی امداد براہِ راست امدادی اداروں کی جانب سے تقسیم کی جاتی ہے، جبکہ طالبان نے اس امداد سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماضی میں بعض امدادی اداروں اور انسانی حقوق سے متعلق حلقوں کی جانب سے طالبان پر امدادی سرگرمیوں میں مداخلت اور امداد کی تقسیم کے عمل پر اثرانداز ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (OCHA) نے بھی رواں سال جولائی کے حوالے سے افغانستان میں انسانی امدادی سرگرمیوں سے متعلق متعدد مداخلتی واقعات رپورٹ کیے تھے۔ OCHA کے مطابق ان میں امدادی پروگراموں کے نفاذ اور مستحقین کے انتخاب میں مداخلت کے واقعات بھی شامل تھے۔
دوسری جانب، افغانستان میں انسانی امداد کی ضرورت بدستور بہت زیادہ ہے۔ حالیہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 21.9 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ امدادی ادارے محدود فنڈنگ کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماضی میں ترجمان نے امداد کی مبینہ غیر منصفانہ تقسیم کے الزامات کی بھی تردید کر چکے ہیں، تاہم بعض رپورٹس میں حکومت کی جانب سے امدادی وسائل کے استعمال اور تقسیم کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔