وانا (پاک ٹوڈے): جنوبی وزیرستان لوئر سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی طویل حراست اور ان کے خلاف مختلف مقدمات کے حوالے سے پشتون سیاسی حلقوں اور عوامی نمائندوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ علی وزیر ایک طویل عرصے سے مختلف مقدمات کے باعث زیرحراست ہیں۔ مارچ 2026 میں سندھ ہائی کورٹ سے ایک مقدمے میں ضمانت ملنے کے بعد انہیں دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرکے دادو جیل منتقل کردیا گیا تھا۔
علی وزیر کے ایک مقدمے میں گواہ کی مسلسل عدم حاضری کا معاملہ بھی زیرسماعت ہے۔ بیان کے مطابق عدالت نے گواہ کے مسلسل پیش نہ ہونے پر آئندہ سماعت میں گواہ کے بغیر مقدمے پر فیصلہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی علی وزیر کی مسلسل حراست اور ان کے خلاف متعدد مقدمات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الپارلیمانی یونین کے انسانی حقوق سے متعلق ریکارڈ میں بھی علی وزیر کے معاملے سے متعلق گرفتاری، حراست، منصفانہ ٹرائل، آزادی اظہار اور پارلیمانی حقوق سمیت مختلف خدشات درج کیے گئے ہیں۔
علی وزیر نے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے پشتون علاقوں میں انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور دیگر عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اجاگر کیا تھا۔
جنوبی وزیرستان اور خیبرپختونخوا کے عوامی حلقوں کی جانب سے پشتون سیاسی قیادت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ علی وزیر کے معاملے کو سیاسی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی قانونی صورتحال کا جائزہ لیا جائے اور آئینی و قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ان کی رہائی کے لیے مؤثر کوششیں کی جائیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ علی وزیر کے معاملے کو سیاسی اختلافات سے ہٹ کر قانون، انصاف اور بنیادی حقوق کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، جبکہ پشتون قیادت، منتخب نمائندوں، وکلا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے ان کے مقدمات کی قانونی پیش رفت پر نظر رکھنے اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
علی وزیر نے بھی مبینہ ناانصافی کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں بھوک ہڑتال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
