یمن (پاک ٹوڈے): یمن کی بندرگاہ عدن میں ایم ٹی ڈورِن کے 14 پاکستانی کریو ممبرز ایک ماہ سے زائد عرصے سے پھنسے ہوئے ہیں، جنہوں نے حکومت پاکستان سے وطن واپسی کے لیے فوری سفارتی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی عملہ 14 اپریل 2026 کو جبوتی بندرگاہ سے ایم ٹی ڈورِن پر سوار ہوا تھا، جبکہ جہاز 30 جولائی کو یمن کی بندرگاہ عدن پہنچا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عدن میں پورٹ اسٹیٹ کنٹرول حکام نے 6 اگست کو ایم ٹی ڈورِن کو تحویل میں لے لیا۔ جہاز کی حراست کی وجہ مبینہ طور پر فلیگ سے متعلق جعلی دستاویزات کا معاملہ بتایا گیا ہے۔
ایم ٹی ڈورِن پر موجود پاکستانی کریو ممبرز نے فلیگ سے متعلق دستاویزات سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاز کے مالکان، متعلقہ کمپنی اور یمنی حکام کے درمیان معاملات کا ان سے براہ راست تعلق نہیں۔
پاکستانی عملے کے مطابق جہاز کی حراست اور یمن میں جاری جنگی صورتحال کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ طویل عرصے سے عدن میں موجود ہونے کے باعث ان کی وطن واپسی بھی متاثر ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایم ٹی ڈورِن پر مجموعی طور پر 23 اہلکار سوار ہیں، جن میں 14 پاکستانی، 8 بھارتی اور ایک بنگلادیشی شہری شامل ہیں۔
پاکستانی کریو ممبرز نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی وطن واپسی کے لیے فوری طور پر سفارتی سطح پر معاملہ اٹھایا جائے اور متعلقہ یمنی حکام سے رابطہ کرکے ان کی واپسی کا راستہ ہموار کیا جائے۔