عبوری افغان حکومت جنگجو ذہنیت ترک کرکے ریاستی سوچ اپنائے، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عبوری افغان حکومت کو اپنی جنگجو ذہنیت ترک کرکے ریاستی سوچ اپنانا ہوگی، کیونکہ ان کے مطابق یہی پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔

اسلام آباد میں افغانستان اور امن کے امکانات کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے موجودہ صورتحال کو ’’افغان الجھن‘‘ یا ’’افغان معمہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے لیے طویل المدتی، پائیدار اور مستقل حل درکار ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ عبوری افغان حکومت کو جنگجو ذہنیت سے نکل کر ریاستی یا سیاسی سوچ اختیار کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ماضی میں بھی ہمسایہ رہے ہیں، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان بین الاقوامی سرحد، روابط اور تعلقات موجود ہیں، تاہم دونوں ملکوں کا ماضی پُر اضطراب رہا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق گزشتہ چند برسوں سے سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ ہیں، جبکہ ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر تنازعہ سامنے آیا۔

Related posts

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا خدشہ، شوکت یوسفزئی کی لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز

بنوں میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا، صوبے میں رواں سال 4 کیسز ہوگئے

پنجاب بھر میں آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر 30 روزہ پابندی