شمالی وزیرستان (پاک ٹوڈے): خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں، جن کے دوران 9 عسکریت پسندوں کو مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پلانگزئی، ندیم کوٹ اور کوٹ خزری سمیت متعدد مقامات پر کی جانے والی کارروائیوں میں 4 اہم عسکریت پسند کمانڈروں سمیت 9 افراد مارے گئے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق کارروائیوں کے دوران متعدد ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے، جبکہ بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک روز قبل بھی شمالی وزیرستان میں 13 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل منگل کو 5 اور 2 اکتوبر کو 7 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق 30 ستمبر کو میر علی میں 3، 29 ستمبر کو باڑہ میں 5 جبکہ 28 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں 4 عسکریت پسندوں کو مارے جانے کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔
رپورٹ میں حالیہ عرصے کے دیگر واقعات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن میں 26 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درازندہ میں امن میلہ پولیس چوکی پر خودکش دھماکا شامل ہے، جس میں 12 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوئے تھے۔ 18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز پر حملے میں 23 افراد جاں بحق اور تقریباً 100 افراد زخمی ہوئے تھے۔