جامعہ کراچی میں فیل طلبہ کو خلاف ضابطہ پاس کرنے کا معاملہ سامنے آگیا

کراچی (پاک ٹوڈے): جامعہ کراچی میں لاء کالجوں کے فیل طلبہ کو خلاف ضابطہ پاس کرنے کا معاملہ سامنے آگیا، جہاں ایس ایم لاء کالج اور اسلامیہ لاء کالج کے تقریباً 150 طلبہ کو ابتدائی نتائج میں فیل قرار دیے جانے کے بعد اسکروٹنی کے ذریعے پاس کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق متعلقہ طلبہ مختلف مضامین میں فیل تھے، تاہم بعد ازاں ان کے نتائج میں تبدیلی کی گئی اور بعض طلبہ کے نمبروں میں نمایاں اضافہ کرکے انہیں کامیاب قرار دیا گیا۔

معاملے کے مطابق سابق مستقل وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد عراقی کے دور میں طلبہ کی جانب سے اسکروٹنی کے لیے اجتماعی درخواست دی گئی تھی، تاہم انہوں نے اس درخواست کی منظوری نہیں دی۔

ڈاکٹر خالد عراقی کے مطابق جامعہ کراچی کے سالانہ امتحانی نظام میں اسکروٹنی کے تحت صرف نمبروں کی دوبارہ گنتی کی جاتی ہے، جبکہ امتحانی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کی اجازت نہیں، اسی وجہ سے انہوں نے مذکورہ درخواست پر کارروائی نہیں کی تھی۔

بعد ازاں رئیس کلیہ قانون کی سفارش پر اسکروٹنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں رئیس کلیہ قانون، متعلقہ لاء کالجوں اور ناظم امتحانات کے نمائندگان شامل تھے۔ کمیٹی کا اجلاس 5 اگست کو ہوا، جس میں ایل ایل بی پارٹ ٹو کے پیپر 5 کی جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کا فیصلہ کیا گیا۔

امتحانی قواعد کے حوالے سے اس فیصلے نے اہم سوالات پیدا کیے ہیں، کیونکہ جامعہ کراچی کے سالانہ امتحانی نظام میں اسکروٹنی کا بنیادی مقصد نمبروں کی دوبارہ گنتی ہے، جبکہ امتحانی کاپیوں کی دوبارہ جانچ اس طریقہ کار کا حصہ نہیں۔

ذرائع کے مطابق 6 اگست کو اسکروٹنی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل جوکھیو سے حاصل کی گئی۔ منظوری میں دیگر متعلقہ کیسز کو بھی شامل کیا گیا، جس کے بعد مطالعہ پاکستان سمیت بعض دیگر مضامین میں فیل طلبہ کے نتائج میں بھی تبدیلی کی گئی۔

معاملے میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایل ایل بی میں متعدد طلبہ ’اوبلیگیشن‘ اور مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں صفر یا انتہائی کم نمبروں کے ساتھ فیل تھے، تاہم بعد ازاں ان کے نمبروں میں اضافہ کرکے انہیں پاس کردیا گیا۔

نتائج میں تبدیلی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ امتحانات کے ابتدائی نتائج میں فیل قرار دیے گئے بعض طلبہ کو بعد ازاں اسکروٹنی کے بعد پاس ظاہر کرنے والی نئی مارک شیٹس جاری کی گئیں۔

ایس ایم لاء کالج کے پرنسپل پروفیسر فرید ڈایو کے مطابق تقریباً 180 طلبہ کو اسلامیہ لاء کالج کے ایک استاد نے فیل کیا تھا، تاہم ان طلبہ کے معاملات اسکروٹنی کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے اور جن طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی، انہیں پاس کیا گیا۔

دوسری جانب سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی کے قواعد کے تحت اسکروٹنی میں امتحانی کاپیوں کی دوبارہ جانچ نہیں کی جاسکتی بلکہ صرف نمبروں کی دوبارہ گنتی کی جاتی ہے۔

اس معاملے نے جامعہ کراچی کے نئے مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی کے لیے بھی یونیورسٹی کے امتحانی نظام، اسکروٹنی کے طریقہ کار اور قواعد پر عمل درآمد سے متعلق اہم چیلنجز پیدا کردیئے ہیں۔

معاملے میں یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ فیل طلبہ کے نتائج تبدیل کرنے کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار کی منظوری کس قانونی اور انتظامی بنیاد پر دی گئی اور آیا امتحانی کاپیوں کی دوبارہ جانچ جامعہ کراچی کے قواعد کے مطابق تھی یا نہیں۔

Related posts

خیبرپختونخوا میں ڈینگی کا پھیلاؤ، کوہاٹ میں کیسز کی تعداد 1,347 تک پہنچ گئی

حکومت اور پی ٹی آئی میں ثالثی کیلئے مولانا فضل الرحمان نے 5 شرائط پیش کردیں

مولانا فضل الرحمان سے رانا ثناء اللہ اور طارق فضل چودھری کی ملاقات