شام کیلئے امریکی دفاعی سامان کی راہ ہموار، واشنگٹن نے بڑی پابندی ختم کردی

واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکہ نے شام سے متعلق اپنی دفاعی تجارتی پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے اسے ان ممالک کی فہرست سے خارج کردیا ہے جہاں دفاعی سازوسامان اور خدمات کی برآمد یا درآمد کیلئے لائسنس اور دیگر منظوریوں کی درخواستیں عمومی طور پر مسترد کردی جاتی تھیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے انٹرنیشنل ٹریفک اِن آرمز ریگولیشنز یعنی آئی ٹی اے آر میں ترمیم کرتے ہوئے شام کو دفعہ 126.1 کے تحت جامع پابندی والی فہرست سے نکال دیا ہے۔ یہ تبدیلی یکم اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوگئی ہے۔

نئی پالیسی کے تحت شام کیلئے امریکی دفاعی سازوسامان، فوجی خدمات اور دیگر متعلقہ دفاعی منتقلی کی درخواستیں اب خودکار طور پر مسترد نہیں ہوں گی بلکہ ہر درخواست کا الگ سے جائزہ لیا جائے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے 19 اگست 2026 کو شام کیلئے نئی دفاعی تجارتی پالیسی کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اسے آئی ٹی اے آر میں شامل کیا گیا۔

تاہم امریکی فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ شام کو امریکی ہتھیاروں کی خریداری کی خودکار اجازت مل گئی ہے۔ دفاعی معاہدے یا کسی بھی منتقلی کیلئے امریکی حکومت کی جانب سے کیس ٹو کیس لائسنس اور منظوری اب بھی ضروری ہوگی۔ جامع پابندی کے خاتمے سے واشنگٹن اور دمشق کے درمیان دفاعی تجارت کیلئے قانونی راستہ ضرور کھل گیا ہے۔

امریکی اقدام شام کے حوالے سے واشنگٹن کی وسیع تر پالیسی میں تبدیلیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس سے قبل اگست 2026 میں امریکہ نے شام کو ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک کی فہرست سے بھی خارج کیا تھا، جبکہ دمشق میں امریکی سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جو 2012 سے بند ہے۔

ستمبر 2026 میں امریکہ نے شام سے متعلق بعض دیگر قانونی پابندیوں میں بھی نرمی کی تھی، جن میں کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق قانون کے تحت اسلحے کی فروخت اور اس کی مالی معاونت پر عائد بعض پابندیاں شامل تھیں۔

شام کو جامع دفاعی برآمدی پابندیوں کی فہرست سے نکالے جانے کے بعد اس فہرست میں شامل ممالک کی تعداد 7 رہ گئی ہے۔ ان میں بیلاروس، چین، کیوبا، ایران، میانمار، شمالی کوریا اور وینزویلا شامل ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور شام کے تعلقات میں سفارتی سطح پر تبدیلیاں دیکھی جارہی ہیں۔ تاہم شام کو دفاعی سامان کی کسی بھی ممکنہ فروخت یا منتقلی کی حتمی منظوری امریکی حکومت کے انفرادی جائزے سے مشروط رہے گی۔

Related posts

فرانس میں طلبا کے احتجاج نے شدت اختیار کرلی، پولیس سے جھڑپیں، 1,747 افراد گرفتار

صنعا میں دھماکوں کی اطلاعات، حوثیوں کا سعودی فضائی حملوں کا دعویٰ

ایران کے قریب امریکی فوجی طاقت میں بڑا اضافہ، تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑا بھی روانہ