تہران (پاک ٹوڈے): ایران اور سویڈن کے درمیان سفارتی کشیدگی میں شدت پیدا ہو گئی ہے، جس کے بعد ایرانی حکومت نے جوابی اقدام کرتے ہوئے سویڈن کے ایک سفارتکار کو 48 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ سویڈن کی جانب سے ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار کو ملک بدر کرنے کے ردِعمل میں سامنے آیا ہے۔ ایران نے اس حوالے سے سویڈن کے سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے شدید الفاظ میں احتجاج ریکارڈ کرایا اور سویڈن کی ایران سے متعلق پالیسی کو "تباہ کن” قرار دیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے سویڈن کی حکومت کی جانب سے سلامتی کے امور میں مداخلت کے تمام الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ تہران انتظامیہ نے اس بات پر بھی سخت اعتراض اٹھایا کہ اسٹاک ہوم میں ایران مخالف عناصر کو کھلے عام سرگرمیوں کی اجازت دی جا رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق، ایران کا مؤقف ہے کہ سویڈن نے یہ قدم اسرائیلی حکومت کے دباؤ میں آ کر اٹھایا ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر تہران نے بھی بالمثل پالیسی اپناتے ہوئے سویڈش سفارتکار کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اقدامات سے تعلقات مزید بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔