کراچی (پاک ٹوڈے) سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پیر کو اہم فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے اس نوٹیفکیشن کو معطل کر دیا جس میں افغان میڈیکل طلبہ کو افغانستان واپس جانے کا حکم دیا گیا تھا۔
یہ فیصلہ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں علامہ محمد اقبال اسکالرشپ کے تحت ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنے والے تین افغان طلبہ کی درخواست پر سنایا گیا۔
درخواست گزار افغان طلبہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس درست پاکستانی ویزے موجود ہیں، جبکہ پی ایم ڈی سی کی جانب سے انہیں افغانستان واپس جانے کا حکم غیر قانونی اور آئین کے خلاف ہے۔
خاص طور پر افغان خواتین طلبہ نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ اگر انہیں افغانستان واپس بھیجا گیا تو ان کی تعلیم ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے اور انہیں وہاں صنفی امتیاز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عدالت نے درخواست پر تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ اگلی سماعت تک افغان طلبہ کے خلاف کوئی جبری کارروائی نہ کی جائے۔
افغان طلبہ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں پاکستان میں بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی میڈیکل تعلیم، کلینیکل روٹیشنز اور امتحانات مکمل کرنے کی اجازت دی جائے۔
سندھ ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت کے لیے 29 ستمبر کی تاریخ مقرر کردی ہے۔