روس کی برطانیہ کو براہِ راست فوجی کارروائی کی دھمکی اور برطانوی تنصیبات نشانہ بنانے کی تنبیہ

ماسکو (پاک ٹوڈے): روس نے برطانیہ کو شدید نتائج سے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر یوکرین نے برطانوی کروز میزائلوں کے ذریعے روسی سرزمین پر حملے کیے، تو ماسکو جوابی اقدام کے طور پر یوکرین کے اندر اور اس کی سرحدوں سے باہر موجود برطانوی فوجی اہداف اور تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنا سکتا ہے۔

​روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے پریس بریفنگ کے دوران لندن حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ماسکو برطانوی اسلحے سے ہونے والی کسی بھی کارروائی کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ انہوں نے الزامات عائد کیے کہ یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے برطانیہ اس تنازع کو ایک انتہائی خوفناک اور غیر مستحکم موڑ پر دھکیل رہا ہے، جس کے برطانوی قیادت کے لیے "تباہ کن نتائج” برآمد ہو سکتے ہیں۔

​روسی حکام نے برطانیہ پر روسی شہریوں کے خلاف کارروائیوں میں قانونی طور پر باضابطہ فریق بننے کا الزام بھی عائد کیا۔ یہ سخت ردِعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماسکو نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونیٹسک میں ایک شاپنگ سینٹر پر حملے کے لیے برطانوی ساختہ ‘اسٹارم شیڈو’ میزائل کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

​تنازع میں نئی شدت اس وقت پیدا ہوئی جب برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کی جانب سے یوکرین کو ‘اسٹارم شیڈو’ کروز میزائلوں کی مقامی سطح پر تیاری کی ٹیکنالوجی دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس پیش رفت سے دونوں عالمی طاقتوں کے مابین براہِ راست ٹکراؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جبکہ روس نے پہلے ہی واضح کر رکھا ہے کہ مغربی ممالک کے دیے گئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار جنگ کے دائرہ کار کو بے قابو کر دیں گے۔

Related posts

بغلان: افغان فورسز کے سرچ آپریشن میں مخالف گروپ کے 4 اہلکار اور 2 اہم کمانڈر ہلاک

نائن الیون کیس میں 25 سال بعد بڑی پیش رفت، خالد شیخ محمد سمیت 4 ملزمان کے ٹرائل کی تاریخ مقرر

بھارت: کان پور میں تربیتی طیارہ تباہ، پائلٹ اور انسٹرکٹر ہلاک