راولپنڈی (پاک ٹوڈے): راولپنڈی میں 12 سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کرنے کا مقدمے میں مطلوب ملزم ممریز خان مبینہ مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔ سی سی ڈی حکام کے مطابق ملزم مقتولہ کا خالو تھا اور واقعے کے بعد سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ راولپنڈی کے علاقے خیابانِ سرسید، ڈھوک نجو میں پیش آیا، جہاں کم عمر بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ بچی کی لاش 8 اکتوبر کو ملزم ممریز خان کے گھر سے برآمد ہوئی تھی۔
سی سی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم اغوا، زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مطلوب تھا۔ حکام کے مطابق مقتولہ کے ساتھ ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں ایک خاتون کو قتل کی دھمکیاں دینے کے الزام میں ایک نوجوان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے مطابق اس معاملے میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن پلیٹ فارمز کے استعمال کا پہلو سامنے آیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر قتل کے طریقوں سے متعلق معلومات اور خیالات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ایجنسی نے مصنوعی ذہانت کے ٹولز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔