دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب کو مدد فراہم کرنے کا پابند ہے، خواجہ آصف

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب پر یمن کے حوثی عسکریت پسندوں کے حملے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کا سبب بنیں گے اور پاکستان اس معاہدے کی رو سے سعودی عرب کو مکمل مدد فراہم کرنے کا پابند ہے۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک پاکستانی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو کے دوران بتایا کہ معاہدے کی شقوں کے مطابق اتحادی ملک کی دفاعی ضرورت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان اپنے تمام تر وسائل اور تعاون پیش کرے گا۔

واضح رہے کہ ۸ ستمبر کو یمن کے حوثی عسکریت پسندوں نے سعودی عرب کے جنوبی اضلاع ابہا، جازان، نجران اور خمیس مشیط میں تیل کی تنصیبات اور اقتصادی مراکز پر ڈرون اور میزائلوں کے ذریعے شدید حملے کیے تھے، جس کے نتیجے میں ۷۳ افراد زخمی ہوئے۔

یاد رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ۷ اگست ۲۰۲۶ء کو مکہ مکرمہ میں ایک تاریخی ‘مشترکہ دفاعی معاہدہ’ (مکہ ڈیکلریشن) پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت ان تینوں ممالک میں سے کسی بھی ایک پر مسلح حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کا مقصد باہمی عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور دفاعی اتحاد قائم رکھنا ہے۔

Related posts

تربت: خیر آباد کے قریب اسسٹنٹ کمشنر تمپ کی سرکاری گاڑی چھین لی گئی

8 ماہ کے دوران ہزاروں شکایات کا ازالہ، عوامی اطمینان ہی اصل وژن

پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا کرایوں میں 5 فیصد اضافے کا اعلان