8 ماہ کے دوران ہزاروں شکایات کا ازالہ، عوامی اطمینان ہی اصل وژن

پشاور (پاک ٹوڈے): وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں جنوری 2026 سے اگست 2026 تک وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو موصول ہونے والی شکایات اور ان کے ازالے کا جامع جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ آٹھ ماہ کے دوران مختلف ذرائع سے مجموعی طور پر تین ہزار پانچ سو اکہتر شکایات موصول ہوئیں۔

بریفنگ کے مطابق موصولہ شکایات میں سے چار سو ننانوے شکایات وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں موقع پر ہی حل کر دی گئیں یا ضروری رہنمائی فراہم کی گئی۔ چار سو اٹھانوے شکایات دائرہ اختیار یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث ناقابلِ عمل قرار پائیں جبکہ دو ہزار چھ سو دس شکایات صوبائی محکموں کو کارروائی کے لیے ارسال کی گئیں۔

ان دو ہزار چھ سو دس شکایات میں سے نو سو اٹھاسی پر ریلیف دیا گیا، گیارہ پر جزوی ریلیف فراہم کیا گیا جبکہ سات سو اکیاسی شکایات پر کارروائی جاری ہے۔ اس کے علاوہ سات سو چوہتر شکایات میرٹ پر پورا نہ اترنے کے باعث قابلِ کارروائی نہیں تھیں۔ زمینی تنازعات اور تعلیم شکایات کی بڑی کیٹیگریز میں شامل رہیں۔

شکایات کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک ہزار نوے شکایات دستی طور پر، ایک ہزار سینتالیس واٹس ایپ، چھ سو ستاسی ای میل، تین سو تینتالیس فون کالز، دو سو تہتر فیس بک اور ایک سو گیارہ ایکس (ٹوئٹر) کے ذریعے موصول ہوئیں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ اجلاسوں اور پریزنٹیشنز سے نہیں بلکہ عوام کی گواہی اور اطمینان سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شکایات کے مؤثر ازالے اور حکمرانی میں عوامی شمولیت عمران خان کا وژن ہے اور صوبائی حکومت اس وژن کو عملی بنیادوں پر آگے بڑھا رہی ہے۔

Related posts

تربت: خیر آباد کے قریب اسسٹنٹ کمشنر تمپ کی سرکاری گاڑی چھین لی گئی

پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا کرایوں میں 5 فیصد اضافے کا اعلان

فرنٹ لائن ورکرز کے یومیہ معاوضے میں 28 فیصد اضافہ، اطلاق ستمبر کی مہم سے ہوگا