دادو (پاک ٹوڈے): سندھ کے ضلع دادو کی عدالتوں میں آج 16 اکتوبر کو پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں اور سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر اور عبدالصمد کے خلاف مقدمات کی سماعت ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں کے مقدمات کی آئندہ تاریخیں مقرر کر دی گئیں۔
پی ٹی ایم کے سرکردہ رہنما علی وزیر ایڈیشنل سیشن جج سید احسان شاہ کی عدالت میں پیش ہوئے۔ ان کے مقدمے میں حتمی دلائل سنے جانے تھے، تاہم عدالت نے وکیلِ صفائی سے علی وزیر کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی ایف آئی آرز اور ان میں ہونے والے عدالتی فیصلوں کی دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت کی۔
علی وزیر کے وکیل امداد حیدر سولنگی نے عدالت کو بتایا کہ سندھ میں درج مقدمات اور عدالتی فیصلوں کی دستاویزات تیار ہیں، تاہم ان کے مؤقف کے مطابق دیگر صوبوں کے مقدمات اور فیصلوں کی دستاویزات پیش کرنا قانونی تقاضا نہیں۔ عدالت نے متعلقہ دستاویزات پیش کرنے پر زور دیتے ہوئے سماعت 21 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
دوسری جانب عبدالصمد ایڈیشنل سیشن جج میر حسن کلہوڑو کی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ان کے دو مقدمات میں ایک باقی ماندہ گواہ کی جانب سے مہلت طلب کرنے پر سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔
سماعت کے موقع پر عوامی ورکرز پارٹی دادو کے رہنماؤں نے کامریڈ نور احمد سومرو کی قیادت میں دونوں پشتون رہنماؤں سے ملاقات کی اور انہیں سندھی ثقافت کی علامت اجرک اور سندھی ٹوپیاں پیش کیں۔
اس موقع پر علی وزیر نے اپنے پیغام میں کہا کہ پشتونوں کو بنیادی، سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق سے محروم رکھنا قابلِ مذمت ہے۔ ان کے مطابق عوامی تحریکوں کو مقدمات اور قید و بند کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔
علی وزیر نے حکمرانوں سے اپنا رویہ درست کرنے اور خیبر پختونخوا کے عوام کا استحصال بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صوبے کے ساتھ آمرانہ رویے کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
دونوں رہنماؤں کی عدالتوں میں پیشی کے موقع پر پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار بھی تعینات تھے۔
