خیبر (پاک ٹوڈے): ضلع خیبر کی انتظامیہ نے خستہ حال عمارتوں کے باعث جمعے کے روز لنڈی کوتل، باڑہ اور جمرود میں پانچ اسکول سیل کر دیے۔ یہ کارروائی نجی اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے کے بعد کی گئی، جس میں 30 طلبہ اور ایک استاد جاں بحق ہوئے تھے۔
حکام کے مطابق ڈپٹی کمشنر خیبر شاہد علی کی ہدایت پر تینوں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز نے مختلف نجی اسکولوں کا دورہ کیا اور عمارتوں کی حالت کا جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران پانچ اسکولوں کی عمارتیں انتہائی خستہ حال پائی گئیں، جنہیں طلبہ اور اساتذہ کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے سیل کر دیا گیا۔
سیل کیے گئے اسکولوں میں لنڈی کوتل کا یونیک چلڈرن اکیڈمی، سلطان خیل کے علاقے میں گرامر ہاؤس اور المدینہ پبلک اسکول، جمرود میں روضۃ الاطفال پبلک اسکول اور باڑہ میں گورنمنٹ پرائمری اسکول مواز خان کلے شامل ہیں۔
حکام کے مطابق بعض اسکولوں کی چھتیں بانسوں سے ڈھکی ہوئی تھیں جبکہ دیواریں بھی گرنے کے قریب تھیں، جس سے طلبہ اور اساتذہ کی جانوں کو خطرات لاحق تھے۔
ضلعی انتظامیہ نے تینوں تحصیلوں میں معائنہ کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، جن میں محکمہ تعلیم، مواصلات و تعمیرات، آبپاشی اور تحصیل میونسپل انتظامیہ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ کمیٹیوں کو سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کا معائنہ کرنے اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو محدود وقت کے باعث تمام اسکولوں کا معائنہ ممکن نہیں ہو سکا، اس لیے آئندہ دنوں میں مزید تعلیمی اداروں کا دورہ کیا جائے گا۔
