اسلام آباد (پاک ٹوڈے): سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے دعویٰ کیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز سے اب تک خیبرپختونخوا میں تقریباً 2 ہزار سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اسد قیصر نے سوال اٹھایا کہ حکومت امن و امان کی صورتحال کیوں خراب کرنا چاہتی ہے اور صوبے میں سیاسی کشیدگی کو بڑھا کر حالات کو کس طرف لے جانا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا اپنا منفرد سیاسی اور سماجی کلچر ہے، جہاں شدید سیاسی اختلافات کے باوجود باہمی احترام، رواداری اور روایات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے پولیس کو سیاسی انتقام اور مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کرنے کی مذمت بھی کی۔
اسد قیصر نے مطالبہ کیا کہ شہریوں کے گھروں پر چھاپوں، سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کے بجائے آئین، قانون اور بنیادی حقوق کا پابند بنایا جائے۔
سابق اسپیکر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان، گرفتار وزراء، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سیاسی کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
اسد قیصر کے مطابق سیاسی اختلافات کا جواب گرفتاریوں اور انتقامی کارروائیوں کے بجائے سیاسی مکالمے، آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہو۔