پشاور (پاک ٹوڈے): مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت صوبے میں مدارس کو ریگولیٹ کیا جائے گا اور ان کے نصاب، تدریسی سرگرمیوں اور متعلقہ افراد کے روابط کی نگرانی کی جائے گی۔
سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں مدارس کو باقاعدہ نظام کے تحت لانے کی شق شامل تھی، جس پر ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں تفصیلی بات چیت ہوئی۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت اس معاملے پر خیبرپختونخوا حکومت کو آگاہ کر چکی ہے اور اجلاس میں تمام متعلقہ فریقوں نے اتفاق رائے کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ مدارس میں پڑھائے جانے والے نصاب اور وہاں موجود افراد کے روابط کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ثمر ہارون بلور کے مطابق ایک طبقے کی ناراضی کے خدشے کے باعث اس معاملے پر پہلے کارروائی نہیں کی گئی، تاہم صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا میں جس اسکول کی چھت گری، وہاں دوپہر دو بجے کے بعد مدرسہ بھی چلایا جاتا تھا۔
دوسری جانب وفاقی مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں اور صوبے کی صورت حال پر بریفنگ دی۔
سماء نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے عسکری قیادت کے حوالے سے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے چار ماہ کا ہدف دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس میں صوبے کے 12 متاثرہ اضلاع میں 201 شدت پسند تشکیلوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں تین سے 15 افراد تک شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ افراد منظم گروہوں کی صورت میں ہی نہیں بلکہ آبادیوں کے اندر بھی موجود ہیں۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق سیکیورٹی ادارے مقامی آبادی سے تعاون کی اپیل کرتے رہے ہیں تاکہ شدت پسندوں کو آبادیوں سے باہر نکالا جا سکے یا لوگوں کے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے بعد کارروائی کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان دونوں طریقوں پر اتفاق نہیں ہوتا تو شدت پسندوں کو آبادیوں میں سرگرم رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں جب مقامی لوگ سیکیورٹی فورسز سے تعاون کرتے تھے تو سہیل آفریدی کی حکومت انہیں ایسا کرنے سے روکتی اور اکساتے ہوئے تعاون سے باز رکھتی تھی۔