پشاور (پاک ٹوڈے): خیبرپختونخوا کے معدنی وسائل سے متعلق جاری سیاسی بحث کے دوران سامنے آنے والے محکمانہ اعدادوشمار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبے میں مجموعی طور پر 6 ہزار 988 معدنی لائسنسز اور لیزز موجود ہیں، تاہم بڑے پیمانے کی مائننگ لیزز کی تعداد صرف 5 ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان لائسنسز اور لیزز میں 5 ہزار 300 پراسپیکٹنگ لائسنسز، ایک ہزار 680 مائننگ لیزز، بڑے پیمانے کے 3 ایکسپلوریشن لائسنسز اور 5 بڑی مائننگ لیزز شامل ہیں۔ پراسپیکٹنگ اور ایکسپلوریشن لائسنس معدنی ذخائر کی تلاش کے لیے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ مائننگ لیز کان کنی کے حقوق سے متعلق ہوتی ہے۔
بیان کے مطابق بڑے پیمانے کے 3 ایکسپلوریشن لائسنسز میں ڈیگان ایکسپلوریشن (ایف ڈبلیو او) کے پاس شمالی وزیرستان، چترال میٹلز لمیٹڈ کے پاس چترال اور سینٹرل ایکسچینج کے پاس اپر دیر میں لائسنس شامل ہیں۔
اسی طرح بڑی مائننگ لیزز میں شمالی وزیرستان میں تانبے کی لیز ڈیگان ایکسپلوریشن کے پاس ہے، جبکہ گلوباکور میٹلز اور مگکو کے پاس صوابی، ہمالین ارتھ ایکسپلوریشن کے پاس نوشہرہ اور کوہاٹ، اور شرکردار منرلز کے پاس کوہاٹ میں پلیسر گولڈ کی لیزز ہیں۔
فراہم کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 2013 سے پہلے بعض بااثر افراد کے پاس 10 سے لے کر 100 سے زائد لیزز تھیں، جبکہ کچھ لیزز کا رقبہ 1,200 سے 3,200 ایکڑ تک بتایا گیا۔ بیان کے مطابق مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2017 کے تحت لیزز کے رقبے کی حدود مقرر کی گئیں، جن میں قیمتی پتھروں کے لیے 50 ایکڑ، بعض صنعتی اور تعمیراتی معدنیات کے لیے 100 سے 200 ایکڑ اور دھاتی معدنیات کے لیے 500 ایکڑ تک کی حد شامل ہے۔
بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لائسنسز اور لیزز کی مجموعی تعداد زیادہ ہونے کی ایک وجہ بڑے رقبوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا بھی ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر 2 ہزار ایکڑ پر مشتمل ایک لیز کو 200 ایکڑ کے 10 حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
معلومات کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران خیبرپختونخوا کے معدنی شعبے سے سرکاری خزانے کو تقریباً 14 ارب روپے کی آمدن ہوئی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ متعدد لیزز بارود کے استعمال پر پابندیوں، محکمہ جنگلات کی رکاوٹوں، رائلٹی کے تنازعات، امن و امان کی صورتحال اور مالی وسائل کی کمی کے باعث غیر فعال ہیں۔
بیان میں وفاقی وزیر خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ لیزز کی تعداد بذاتِ خود کرپشن کا ثبوت نہیں، تاہم جہاں کسی الاٹمنٹ میں بدعنوانی یا قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہو، وہاں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
مؤقف میں مزید کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کے معدنی وسائل پر صوبے کے عوام کا حق ہے اور اس حق کا تحفظ شفافیت، احتساب اور آئینی و قانونی طریقہ کار کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔