اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور وفاقی حکومت سے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے ردعمل میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ ایک سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام ہے، جسے عوام قبول نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے، جبکہ اس مینڈیٹ کو نظرانداز کرکے امن و استحکام قائم نہیں کیا جا سکتا۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی اختلاف نہیں، تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عوام کی آواز دبانے، سیاسی مقاصد حاصل کرنے یا صوبے کے آئینی اختیارات محدود کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول دہشت گردی کا مقابلہ قومی اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ صوبوں کو کمزور کرکے وفاق کو مضبوط نہیں بنایا جا سکتا۔ مسائل کا حل طاقت اور محاذ آرائی کے بجائے سیاسی بصیرت، آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات میں ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر آواز اٹھائے گی۔
بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے، زمینی حقائق اور عوامی جذبات کو سمجھے اور ملک کو مزید سیاسی و معاشی نقصان سے بچانے کے لیے ایمرجنسی کا فیصلہ واپس لے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی مفاد میں فیصلے پر نظرثانی کرنا کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی ہے۔