اسلام آباد (پاک ٹوڈے): حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کئی گھنٹے جاری رہنے کے بعد کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا اور فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں سب سے اہم معاملہ 4 اکتوبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کا تھا، جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق امور پر بھی فریقین کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔
اپوزیشن کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ حکومت کی طرف سے لانگ مارچ کے معاملے پر یقین دہانی اور خیبرپختونخوا حکومت کے تعاون سے متعلق مؤقف سامنے آیا۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران معاہدے کے مسودے میں بھی متعدد مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں تاہم حتمی اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔
اپوزیشن رہنما اسد قیصر نے تصدیق کی کہ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے۔ اپوزیشن وفد میں بیرسٹر گوہر، راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل تھے۔ مذاکرات کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کی۔
راجہ ناصر عباس کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور خیبرپختونخوا میں امن و امان سے متعلق معاملات پر اختلاف موجود رہا۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات میں اتفاق نہ ہونے کے باوجود پی ٹی آئی کا لانگ مارچ برقرار ہے۔
دوسری جانب حکومتی نمائندوں کی جانب سے مؤقف سامنے آیا کہ خیبرپختونخوا حکومت مستقبل میں شدت پسندی کے خلاف تعاون کی واضح یقین دہانی نہیں کراسکی، جس کے باعث مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مذاکرات کے دوران ہی اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا شیڈول بھی جاری کیا، جس کے مطابق قافلہ 4 اکتوبر کو لکی مروت سے روانہ ہوگا اور مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا اسلام آباد کی جانب بڑھے گا۔