نیویارک (پاک ٹوڈے): وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کو لاحق کوئی بھی خطرہ ناقابل قبول ہے اور اس حوالے سے کوئی بھی خطرہ ایسی ریڈ لائن ہے جسے عبور نہیں کیا جاسکتا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان ہونے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ امن کے لیے پاکستان کی دیرینہ وابستگی کا اظہار ہے۔
وزیراعظم نے فوجی تصادم کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی اہم گزرگاہیں ہیں اور انہیں کھلا رہنا چاہیے۔
انہوں نے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ شہباز شریف کے مطابق اسلام آباد مذاکرات اور اس کے بعد طے پانے والی مفاہمتی یادداشت تنازع کے خاتمے کی جانب اہم اقدامات ہیں۔
وزیراعظم نے چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارت کاری کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی کوششوں کو سراہا جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے کردار کی بھی تعریف کی۔
فلسطین کے معاملے پر وزیراعظم نے مغربی کنارے میں اسرائیلی تشدد کے پھیلاؤ اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آزاد، خودمختار، قابل عمل اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کو مسئلے کا منصفانہ اور دیرپا حل سمجھتا ہے، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔
شہباز شریف نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں۔
جنوبی ایشیا کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کا استعمال کیا۔ انہوں نے پاکستانی افواج کے ردعمل کو سراہتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کا بھی ذکر کیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ ٹلا۔
مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی جانب سے آزاد اور غیر جانب دار استصواب رائے کے وعدے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خودارادیت کا مطالبہ کیا۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ معاہدہ بدستور مؤثر اور قابل عمل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی کو ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے اور پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، محدود کرنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستان جنگی اقدام تصور کرے گا۔
دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں تقریباً ایک لاکھ جانوں کا نقصان اٹھایا اور 150 ارب ڈالر سے زائد کے معاشی نقصانات برداشت کیے۔ انہوں نے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے افغان حکام سے قابل تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم نے اسلاموفوبیا میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مساجد پر حملوں اور قرآن پاک کی بے حرمتی کا سامنا ہے۔ انہوں نے مذہبی نفرت کے خاتمے پر زور دیا۔
پاکستان کی معیشت کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے ساختی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے معاشی استحکام بحال کیا ہے اور پائیدار و جامع ترقی کی جانب سفر شروع کردیا ہے۔ انہوں نے زراعت، صنعت، معدنی وسائل، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت و آئی ٹی کی جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
موسمیاتی تبدیلی پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، تاہم اسے موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کا بار بار سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی مالی معاونت کے وعدے پورے کریں۔
خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ جنگ ایک انتخاب ہے اور امن بھی ایک انتخاب ہے، جبکہ بعض اوقات جنگ شروع کرنے کے بجائے اسے روکنے کے لیے زیادہ بہادری درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مکالمے کو تصادم، تعاون کو جبر اور امن کو جنگ پر ترجیح دی ہے۔
