ریاض حسین
اسلام آباد: یورپی یونین کی جانب سے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) کے تحت ترجیحی تجارتی سہولت حاصل ہونے کے باوجود مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران یورپی منڈیوں میں پاکستان کی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے ملکی برآمدی مسابقت اور مستقبل کے تجارتی امکانات کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران یورپی ممالک کو پاکستانی برآمدات 1.84 فیصد کمی کے بعد 2 ارب 35 کروڑ ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ان کا حجم 2 ارب 39 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا۔
تجارتی ماہرین کے مطابق برآمدات میں کمی کی اہم وجوہات میں پیداواری لاگت میں اضافہ، مہنگی توانائی، صنعتی شعبے کی کم مسابقتی صلاحیت، معاشی غیر یقینی صورتحال اور عالمی منڈیوں میں دیگر ممالک کے ساتھ بڑھتا ہوا مقابلہ شامل ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے بھی ان مشکلات میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور یورپی صارفین کی قوت خرید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پشاور یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے پروفیسر ڈاکٹر سجاد احمد نے پاک ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں توانائی اور پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ، بجلی اور گیس کے مہنگے نرخ، خام مال کی بلند قیمتیں اور غیر مستقل معاشی پالیسیاں ملکی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے یورپی صارفین کی قوت خرید بھی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سمیت مختلف ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیا کی طلب کم ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق یورپی منڈیوں میں پاکستان کو بھارت جیسے حریف ممالک سے بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے، خصوصاً ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبوں میں، جبکہ یورپی یونین کی جانب سے بھارت کو ترجیحی تجارتی رسائی کی سہولت نے مسابقتی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
یورپی منڈیوں میں برآمدات کی ملی جلی صورتحال
یورپ کے مختلف خطوں میں پاکستانی برآمدات کی صورتحال مختلف رہی۔ جنوبی یورپ کے ممالک کو برآمدات میں 5.26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ بڑھ کر 87 کروڑ 98 لاکھ 96 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں ان کا حجم 83 کروڑ 58 لاکھ 62 ہزار ڈالر تھا۔
اس خطے میں اسپین پاکستانی مصنوعات کی ایک اہم منڈی کے طور پر سامنے آیا، جہاں برآمدات میں 17.78 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 45 کروڑ 12 لاکھ 44 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ حجم 38 کروڑ 31 لاکھ 22 ہزار ڈالر تھا۔
اس کے برعکس اٹلی کو پاکستانی برآمدات میں 8.49 فیصد کمی ہوئی اور یہ 29 کروڑ 87 لاکھ 31 ہزار ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ 32 کروڑ 64 لاکھ 60 ہزار ڈالر تھیں۔ یونان کے لیے برآمدات میں 3.52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ان کا حجم 3 کروڑ 49 لاکھ 61 ہزار ڈالر رہا۔
مشرقی یورپ کی صورتحال اس کے برعکس رہی، جہاں پاکستانی برآمدات میں 15.05 فیصد کمی ہوئی اور یہ 19 کروڑ 86 لاکھ 77 ہزار ڈالر سے کم ہو کر 16 کروڑ 87 لاکھ 61 ہزار ڈالر رہ گئیں۔
مغربی یورپ کی بڑی منڈیوں میں بھی کمی
مغربی یورپ پاکستان کی برآمدات کے لیے اہم ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں جرمنی، نیدرلینڈز، فرانس اور بیلجیم سمیت کئی بڑی تجارتی منڈیاں موجود ہیں۔ تاہم مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں اس خطے کو پاکستانی برآمدات 8.51 فیصد کمی کے بعد ایک ارب 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ ایک ارب 16 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھیں۔
جرمنی کو پاکستانی برآمدات میں 12.77 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 44 کروڑ 61 لاکھ ڈالر سے کم ہو کر 38 کروڑ 91 لاکھ 16 ہزار ڈالر رہ گئیں۔
اسی طرح نیدرلینڈز کو برآمدات میں 3.07 فیصد کمی ہوئی اور یہ 38 کروڑ 17 لاکھ 52 ہزار ڈالر سے کم ہو کر 37 کروڑ 45 ہزار ڈالر رہ گئیں۔
فرانس کے لیے برآمدات میں معمولی 0.47 فیصد کمی ہوئی اور ان کا حجم 13 کروڑ 60 لاکھ 30 ہزار ڈالر رہا، جبکہ بیلجیم کو برآمدات 7.57 فیصد کمی کے بعد 12 کروڑ 74 لاکھ 31 ہزار ڈالر رہ گئیں۔
دوسری جانب برطانیہ، جو بریگزٹ کے بعد یورپی یونین سے الگ ہو چکا ہے، پاکستانی برآمدات کے لیے ایک مثبت منڈی ثابت ہوا۔ پہلی سہ ماہی کے دوران برطانیہ کو برآمدات میں 6.64 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ بڑھ کر 61 کروڑ 23 لاکھ 5 ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں ان کا حجم 57 کروڑ 41 لاکھ 71 ہزار ڈالر تھا۔
برآمدات میں کمی، زرمبادلہ اور روزگار کے لیے خطرہ معاشی ماہر عدنان خان نے خبردار کیا ہے کہ برآمدات میں مسلسل کمی پاکستان کی پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
ان کے مطابق برآمدی آمدنی میں کمی سے ملک میں زرمبادلہ کی آمد متاثر ہوگی، ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ بڑھے گا اور صنعتی سرگرمیاں کمزور پڑ سکتی ہیں۔ خصوصاً ٹیکسٹائل، گارمنٹس، چمڑے اور دیگر برآمدی صنعتوں میں پیداوار متاثر ہونے کے ساتھ روزگار کے مواقع بھی کم ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات میں کمی پاکستانی روپے پر دباؤ بڑھانے اور پائیدار معاشی ترقی کی رفتار سست کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
یورپی منڈیوں میں برآمدات میں کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو ہمسایہ اور جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کا بھی سامنا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران، ہمسایہ ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 26.62 فیصد اضافے کے بعد 4.97 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 3.93 ارب ڈالر تھا۔
رپورٹ کے مطابق چین کے ساتھ تجارتی خسارے میں اضافے نے مجموعی اضافے میں 80 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالا، جس سے ملکی درآمدات اور برآمدات کے درمیان بڑھتا ہوا عدم توازن بھی نمایاں ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق برآمدات اور درآمدات کے یہ متضاد رجحانات پاکستان کے بیرونی تجارتی شعبے کو درپیش بنیادی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں، جن میں درآمدات پر انحصار، برآمدات میں تنوع کی کمی اور عالمی منڈیوں میں مسابقتی صلاحیت کا کمزور ہونا شامل ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ جی ایس پی پلس جیسی ترجیحی تجارتی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور یورپی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کا حصہ برقرار رکھنے کے لیے صنعتی پیداوار میں بہتری، سستی توانائی کی فراہمی، مستقل تجارتی پالیسیاں اور ویلیو ایڈڈ برآمدات میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔