اسلام الدین ساجد
اسلام آباد (پاک ٹوڈے) ۔ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور بارہ اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران صوبائی انتظامی امور چلانے کے لیے گورنر فیصل کریم کنڈی کو وزیراعلیٰ کے اختیارات منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو تفویض کیے گئے اختیارات اب ایمرجنسی کی مدت کے دوران گورنر استعمال کریں گے تاکہ صوبے میں روزمرہ کے انتظامی امور اور حکومتی معاملات کی انجام دہی میں رکاوٹ نہ آئے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق، گورنر خیبر پختونخوا ان اختیارات کے استعمال سے متعلق ہر ماہ وفاقی حکومت کو جائزہ رپورٹ پیش کریں گے۔
وفاقی کابینہ نے امید ظاہر کی کہ گورنر کی سربراہی میں قائم خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل صوبے میں امن و امان کے قیام، عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گی۔
یہ فیصلہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد انتظامی اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔
گورنر کو کون سے اختیارات ملیں گے؟
قانونی ماہرین کے مطابق گورنر کا عہدہ بنیادی طور پر آئینی اور رسمی حیثیت رکھتا ہے اور معمول کے حالات میں صوبائی انتظامی امور وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ چلاتے ہیں۔
قانون دان عاطف خٹک نے پاک ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پاس صوبے کے ایگزیکٹو اور انتظامی اختیارات ہوتے ہیں، لیکن خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ اختیارات وفاقی حکومت کے پاس منتقل ہوگئے تھے۔
ان کے مطابق، وفاقی کابینہ کے تازہ فیصلے کے تحت وہی اختیارات اب گورنر کو تفویض کیے جا رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ گورنر وزیراعلیٰ کے انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے صوبے کے روزمرہ امور چلائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان اختیارات میں مختلف سرکاری محکموں کی نگرانی، انتظامی فیصلے اور سرکاری افسران کی تعیناتیوں اور تبادلوں سمیت وہ امور شامل ہوں گے جو معمول کے حالات میں وزیراعلیٰ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
عاطف خٹک کے مطابق، اس اقدام کا بنیادی مقصد صوبائی حکومت کے انتظامی معاملات کو جاری رکھنا اور مختلف محکموں کے کام میں تعطل سے بچنا ہے۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا پس منظر
خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر 2026 کو گورنر راج نافذ کرنے اور صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی لگانے کے بعد صوبائی انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں کی گئی تھیں۔
اس اقدام کے بعد صوبے کے انتظامی اختیارات وفاقی حکومت کے پاس چلے گئے تھے، جس نے بعد ازاں گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبائی امور کی نگرانی اور انتظامی معاملات چلانے کی ذمہ داریاں سونپ دی تھیں۔
تاہم، ابتدائی انتظامی انتظامات میں گورنر کو مالیاتی امور سے متعلق مکمل اختیارات حاصل نہیں تھے، جس کے باعث صوبائی معاملات چلانے میں اختیارات کی تقسیم کا سوال پیدا ہوا تھا۔
وفاقی کابینہ کی تازہ منظوری کے بعد گورنر کو وزیراعلیٰ کے تفویض کردہ انتظامی اختیارات استعمال کرنے کا اختیار مل گیا ہے، جبکہ ان کے فیصلوں کی نگرانی کے لیے ماہانہ رپورٹنگ کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔