شاہین آفریدی کی خصوصی تحریر
پشاور کے مضافاتی علاقے تاج آباد کی ایک نسبتاً خاموش گلی میں قائم ایک چھوٹا سا اسکول بظاہر کسی عام تعلیمی ادارے جیسا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی چار دیواری کے اندر کئی ایسے خواب سانس لے رہے ہیں جنہیں غربت، گھریلو حالات اور تعلیمی سہولیات کی کمی نے کبھی ادھورا چھوڑ دیا تھا۔
محمدن اسلامک چلڈرن اکیڈمی میں داخل کسی بچے کے والد مزدوری کرتے ہیں، کسی کی والدہ گھروں میں کام کرتی ہیں، جبکہ کچھ بچے ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہاں افغان خاندانوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ایسی بچیوں اور خواتین کو بھی دوبارہ تعلیم کا موقع دیا جا رہا ہے جنہوں نے مختلف سماجی اور معاشی وجوہات کی بنا پر برسوں پہلے اپنی پڑھائی چھوڑ دی تھی۔
اس اسکول کی بنیاد رکھنے والی عائشہ گل گزشتہ ایک دہائی سے ایسے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہیں جن کے لیے اسکول جانا کبھی ایک خواب سے کم نہیں تھا۔
عائشہ گل کے مطابق "اس سکول میں ایسے بچے پڑھتے ہیں جن کی مائیں گھروں میں کام کرتی ہیں، کچھ بچے پارٹ ٹائم مزدوری بھی کرتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ غربت ان کے مستقبل کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور ہم اپنی استطاعت کے مطابق یہ حق انہیں مفت فراہم کر رہے ہیں۔”
محمدن اسلامک چلڈرن اکیڈمی کا آغاز سال 2000 میں ہوا۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق اس وقت یہاں چار سے پندرہ سال تک کی عمر کے دو سو سے زائد نادار بچے اور بچیاں زیر تعلیم ہیں۔
ان میں ایسے بچے بھی شامل ہیں جن کے والدین معذوری یا مالی مشکلات کے باعث انہیں دیگر اسکولوں میں تعلیم دلوانے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ اسکول کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں ایسے بچوں کے لیے بھی دروازے کھلے ہیں جو مختلف حالات کے باعث رسمی تعلیمی نظام سے باہر ہو گئے تھے۔
آٹھ سالہ فاطمہ بھی انہی بچوں میں شامل ہے۔ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان آئی۔ پاکستان پہنچنے کے بعد قانونی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے اسے اسکول میں داخلے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فاطمہ کے والدین اپنی بیٹی کی تعلیم جاری رکھنا چاہتے تھے، مگر داخلے کے مسائل کے باعث اس کی پڑھائی رک گئی۔
بعد ازاں انہیں محمدن اسلامک چلڈرن اکیڈمی کے بارے میں معلوم ہوا جہاں فاطمہ کو داخلہ مل گیا۔ فاطمہ کہتی ہے کہ پاکستان آنے کے بعد اسے پشاور کے کئی اسکولوں میں داخلے کے لیے قانونی دستاویزات کا مسئلہ درپیش رہا، جس کی وجہ سے وہ کسی اسکول میں داخل نہ ہو سکی۔
"میرے والدین بھی میری پڑھائی کے حوالے سے بہت پریشان تھے اور چاہتے تھے کہ میری تعلیم کسی صورت نہ رکے۔ پھر ہمیں محمدن اسکول کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں مجھے بغیر کسی رکاوٹ کے داخلہ مل گیا اور میں دوبارہ اپنی پڑھائی جاری رکھ سکی۔ اب مجھے بہت خوشی ہے کہ میں اسکول جا رہی ہوں۔ میں اپنی تعلیم مکمل کرکے مستقبل میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں۔”
فاطمہ کا یہ خواب شاید اس اسکول کی پوری کہانی کا خلاصہ ہے۔ محدود وسائل کے باوجود یہاں کتابیں صرف نصابی ضرورت نہیں بلکہ ان بچوں کے لیے ایک ایسے مستقبل کی امید ہیں جس کا فیصلہ ان کے موجودہ حالات نہیں بلکہ ان کی محنت اور صلاحیت کرے۔
پاکستان میں اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد بدستور تعلیمی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ 2022 کی انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں چار ملین سے زائد بچے اسکول سے باہر تھے۔ تعلیمی سہولیات کی کمی، اساتذہ کی قلت، اسکولوں کا فاصلے پر ہونا اور داخلے سے متعلق مسائل ان بچوں کے اسکول نہ جانے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
تاج آباد کے اسی اسکول میں زیر تعلیم ثناء بھی ایک عرصے تک تعلیم سے محروم رہی۔ اس کے گھر کے قریب مناسب تعلیمی سہولت موجود نہ ہونے کے باعث اس کی پڑھائی کا سلسلہ رک گیا تھا۔ ثناء کے لیے محمدن اسلامک چلڈرن اکیڈمی میں داخلہ محض ایک نئے اسکول کا انتخاب نہیں بلکہ تعلیم کی طرف واپسی کا راستہ تھا۔
وہ کہتی ہے:
"میرے گھر کے قریب ایسا سکول نہیں تھا جہاں میں اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتی۔ اس وجہ سے مجھے تعلیم چھوڑنا پڑی۔ محمدن سکول میں داخلے کے بعد مجھے دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا۔ اب میں اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتی ہوں اور آگے بھی پڑھنا چاہتی ہوں۔”
اسکول میں گزشتہ دو برس سے تدریس کے فرائض انجام دینے والی علینہ جاوید کے مطابق محدود وسائل کے باوجود یہاں زیر تعلیم بچوں میں سیکھنے کا جذبہ نمایاں ہے۔