برلن (پاک ٹوڈے): جرمنی کے مختلف شہروں میں جنریشن زی کے مظاہروں کے دوران ہنگامہ آرائی، پولیس پر حملوں اور گرفتاریوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔
پولیس کے مطابق اسلحہ فروخت کرنے والی ایک دکان کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ سکیورٹی اہلکاروں پر آتش گیر مواد سے حملے کیے گئے۔ حکام نے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا اور شہریوں کو متاثرہ علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
کولون میں شہر کے مشہور کیتھیڈرل کے قریب تقریباً 200 افراد نے ہنگامہ آرائی کی۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر بوتلیں اور سائیکلیں پھینکیں، جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا، جبکہ پانچ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس نے مظاہرین کی جانب سے چہرے ڈھانپنے اور آتش بازی کا سامان استعمال کرنے کے بعد مارچ روک دیا اور اسے ایک مقام پر احتجاجی اجتماع میں تبدیل کردیا۔