تحریر : محمد علی مرزا
پنجاب کی سی سی ڈی اور خیبر پختونخوا کی سی ٹی ڈی کے مبینہ پولیس مقابلے، ریاستی طاقت اور قانون کی بالادستی کا سوال
کسی معاشرے میں انصاف کا اصل امتحان یہ نہیں کہ پولیس کتنے ملزمان کو مار گراتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنے جرائم کو قانون کے مطابق ثابت کرتی، کتنے بے گناہوں کو تحفظ دیتی اور اپنے اختیارات کے غلط استعمال پر کتنی جواب دہ ہوتی ہے۔
جرائم کے خلاف ریاستی کارروائی بلاشبہ ضروری ہے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا اور دہشت گردی کا سدباب کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ لیکن جب جرائم کے خاتمے کی کوشش میں قانون کی حدود ہی دھندلا جائیں، زیرِ حراست ملزمان کی لاشیں برآمد ہونے لگیں اور ہر ہلاکت کے بعد ایک جیسا پولیس مؤقف سامنے آئے، تو معاملہ محض امن و امان کا نہیں رہتا؛ یہ ریاستی اختیار، انسانی حقوق اور نظامِ انصاف کی ساکھ کا سوال بن جاتا ہے۔
پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی کارروائیوں اور خیبر پختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) سے متعلق حراستی ہلاکتوں کے الزامات اسی بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا ریاست جرائم کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے خود قانون کی پابند رہتی ہے، یا بندوق کو عدالت کا متبادل بنا دیتی ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والا شخص خواہ کتنا ہی سنگین الزام کیوں نہ جھیل رہا ہو، اس کی موت کے حالات کی آزادانہ تحقیق ریاست کی ذمہ داری ہے۔ الزام جرم کا ثبوت نہیں، پولیس کا مؤقف حتمی فیصلہ نہیں، اور وردی کسی ادارے کو قانون سے بالاتر نہیں کرتی۔
پنجاب کی سی سی ڈی کارروائیوں کے بارے میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ نے ایک تشویش ناک صورتِ حال کی نشان دہی کی ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں کم از کم 670 مبینہ پولیس مقابلوں میں 924 ملزمان ہلاک ہوئے، جبکہ اسی عرصے میں صرف دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی۔
یہ اعداد و شمار بذاتِ خود ہر واقعے کو جعلی مقابلہ ثابت نہیں کرتے۔ مسلح کارروائیوں کے حالات مختلف ہو سکتے ہیں اور ہر واقعے کی الگ تحقیق ضروری ہے۔ تاہم ہلاکتوں اور پولیس اہلکاروں کی اموات کے درمیان غیر معمولی فرق ایسا سوال ضرور پیدا کرتا ہے جسے محض سرکاری وضاحت سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اگر اتنی بڑی تعداد میں ملزمان مختلف اضلاع میں پولیس مقابلوں کے دوران ہلاک ہوئے ہیں تو یہ جاننا ضروری ہے کہ ان میں کتنے واقعات کی آزادانہ فرانزک جانچ ہوئی، کتنی مجسٹریٹ انکوائریاں مکمل ہوئیں، کتنے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی اور کتنے مقدمات میں پولیس کے بیان کی تصدیق آزاد شواہد سے ہوئی۔
ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق، جائزہ لیے گئے متعدد واقعات کی ایف آئی آرز اور پریس ریلیز میں ایک جیسا بیانیہ سامنے آیا: ملزم نے پہلے فائرنگ کی، پولیس نے جوابی کارروائی کی اور بالآخر ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔
یہاں بنیادی مسئلہ محض بیانیے کی یکسانیت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا ہر واقعے کے حقائق بھی اسی بیانیے کی تائید کرتے ہیں۔ اگر مختلف اضلاع میں ہونے والے واقعات کی تفصیلات، الفاظ اور نتائج مسلسل ایک جیسے ہوں تو آزادانہ تحقیقات کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ پولیس کی پریس ریلیز تفتیش کا نقطۂ آغاز ہو سکتی ہے، اس کا اختتام نہیں۔
ملتان سے بہاولپور: ایک موت، کئی سوالات
گزشتہ روز پندرہ سالہ یتیم لڑکے وسیم عباس کی گاڑی تلے کچل کر ہلاکت کے مقدمے میں نامزد توقیر نذیر کا واقعہ اس بحث کی ایک اہم مثال ہے۔ عدالت نے توقیر نذیر کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر دیا تھا۔ بعدازاں سی سی ڈی نے دعویٰ کیا کہ وہ تحویل سے فرار ہوا اور بہاولپور کے ناردرن بائی پاس پر مبینہ پولیس مقابلے کے دوران اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔
اس واقعے میں کئی بنیادی سوالات کے جواب ضروری ہیں۔ ملزم عدالتی ریمانڈ پر تھا تو اس کی تحویل کس ادارے کے پاس تھی؟ اسے ملتان سے بہاولپور کیسے منتقل کیا گیا؟ اگر وہ فرار ہوا تو فرار کا وقت، مقام اور حالات کیا تھے؟ اس کے ساتھ موجود دوسرے شخص کی شناخت کیوں واضح نہیں کی گئی؟ جائے وقوعہ سے کون سے ہتھیار برآمد ہوئے، گولیاں کس سمت سے چلائی گئیں اور کیا دستیاب فرانزک شواہد پولیس کے بیان کی تصدیق کرتے ہیں؟ یہ سوالات پولیس کو مجرم قرار دینے کے لیے نہیں، بلکہ حقیقت تک پہنچنے کے لیے ہیں۔
اگر ملزم واقعی فرار ہوا اور مسلح افراد نے پولیس پر فائرنگ کی تو اس دعوے کی تصدیق شواہد سے ہونی چاہیے۔ لیکن اگر حراست، منتقلی یا ہلاکت کے حالات میں تضادات ہیں تو ان کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ ایک شہری کی موت، خواہ وہ کسی سنگین جرم کا ملزم ہی کیوں نہ ہو، محض ایک پریس ریلیز کے ذریعے قابلِ وضاحت واقعہ نہیں بن سکتی۔ یہاں انصاف کا تقاضا دو طرفہ ہے: وسیم عباس کے خاندان کو بھی انصاف ملے اور توقیر نذیر کی موت کے حالات بھی قانون کے مطابق جانچے جائیں۔ ایک مظلوم کو انصاف دلانے کے نام پر دوسرے معاملے میں قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرنا انصاف نہیں، بلکہ قانون کی یکساں بالادستی کے اصول کو کمزور کرنا ہے۔
خیبر پختونخوا: شدت پسندی کا دباؤ، مگر قانون سے استثنا نہیں
خیبر پختونخوا کی صورتِ حال پنجاب سے مختلف ہے۔ صوبہ طویل عرصے سے شدت پسندی، مسلح حملوں، سرحدی خطرات اور پولیس و سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں سی ٹی ڈی کی کارروائیوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ شدت پسند نیٹ ورکس کے خلاف بروقت کارروائی اور شہریوں کی حفاظت ریاست کی ناگزیر ذمہ داریاں ہیں۔
لیکن ایک بنیادی اصول یہاں بھی برقرار رہتا ہے: سکیورٹی کا سنگین ماحول قانونی جواب دہی کو ختم نہیں کرتا، بلکہ اسے مزید اہم بنا دیتا ہے۔
گزشتہ دنوں خیبر ضلع میں اسحاق احمد اور ہدایت خان کی ہلاکت کا معاملہ اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ستمبر 2026 میں ایس ایچ او ریاض حسین آفریدی کی ہلاکت کے بعد دونوں افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ انہیں جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ ان کے ساتھیوں نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دونوں ہلاک ہو گئے۔
دوسری جانب، متاثرہ خاندانوں نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دونوں افراد حراست میں قتل کیے گئے اور وہ ایس ایچ او کے قتل میں ملوث نہیں تھے۔
ان الزامات کے بعد حکومتی سطح پر تحقیقات کا حکم دیا گیا، ضلعی پولیس افسر کی معطلی کی اطلاع سامنے آئی اور بعدازاں معاملے کی تحقیقات کے لیے ضلعی و سیشن جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا۔
یہ اقدامات اس بات کی اہمیت ظاہر کرتے ہیں کہ معاملے کو محض پولیس کے ابتدائی مؤقف پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ تاہم تحقیقات کا حکم جاری ہونا اور کسی عدالتی کمیشن کی تشکیل، بذاتِ خود کسی فریق کے مؤقف کی تصدیق نہیں۔ اصل اہمیت اس رپورٹ کی ہوگی جس میں واقعات کی ترتیب، حراست کا ریکارڈ، فرانزک شواہد اور ذمہ داری کے تعین کو واضح کیا جائے۔
3 اکتوبر 2026 کو مقامی جرگے کے ذریعے خاندانوں کے ساتھ معاوضے، معافی اور بعض دیگر معاملات پر سمجھوتے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ لیکن کسی مالی یا روایتی سمجھوتے کو خودبخود فوجداری ذمہ داری کے خاتمے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ الگ قانونی سوال ہے کہ آیا ایسے سمجھوتے سے کسی جرم کی تفتیش یا ریاست کی جانب سے ذمہ داری متعین کرنے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
اگر کسی شخص کی موت حراست میں ہوئی ہو تو اس کے حالات کی تحقیق محض متاثرہ خاندان کا نجی معاملہ نہیں رہتی۔ یہ ریاستی اداروں کے طرزِ عمل اور عوامی اعتماد سے متعلق معاملہ بھی ہے۔
دونوں صوبوں میں فرق: الزامات کی نوعیت اور ثبوت کی سطح
پنجاب اور خیبر پختونخوا کے معاملات کو ایک ہی پیمانے پر دیکھتے ہوئے ان کے درمیان فرق کو نظرانداز کرنا درست نہیں ہوگا۔
پنجاب میں سی سی ڈی کے حوالے سے پیش کیے گئے اعداد و شمار، متعدد واقعات میں مبینہ طور پر یکساں پولیس بیانیے اور ایچ آر سی پی کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ایک وسیع تر ادارہ جاتی طرزِ عمل کی جانچ کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہاں سوال صرف ایک مقابلے کا نہیں، بلکہ یہ جاننے کا ہے کہ آیا مختلف اضلاع میں ہلاکتوں کا کوئی مستقل نمونہ موجود ہے اور متعلقہ نگرانی و احتساب کے نظام نے کس حد تک اپنا کام کیا۔
اس کے برعکس، خیبر پختونخوا کی سی ٹی ڈی سے متعلق اس مواد میں توجہ زیادہ تر مخصوص واقعات، متاثرہ خاندانوں کے الزامات، صوبے کی سکیورٹی صورتِ حال اور بعض واقعات میں شروع ہونے والی تحقیقات پر مرکوز ہے۔
یہ فرق اہم ہے، کیونکہ ہمارا مقصد پہلے سے طے شدہ نتیجے کو ثابت کرنا نہیں، بلکہ شواہد کی بنیاد پر درست سوالات اٹھانا ہے۔ جہاں منظم طرزِ عمل کے شواہد موجود ہوں، وہاں ادارہ جاتی اصلاحات کی بات ہونی چاہیے؛ جہاں مخصوص واقعات کے بارے میں الزامات ہوں، وہاں ان کی غیر جانب دارانہ تحقیق اور شواہد پر مبنی نتیجے کا انتظار ضروری ہے۔
تاہم اس فرق کو جواب دہی سے بچنے کا جواز بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ پنجاب ہو یا خیبر پختونخوا، پولیس کے ہر ایسے اقدام کی قانونی جانچ ہونی چاہیے جس کے نتیجے میں کوئی زیرِ حراست شخص ہلاک ہو جائے۔
عدالت کا اختیار اور پولیس کی ذمہ داری
فوجداری انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جرم کا الزام لگانے، شواہد جمع کرنے، ملزم کو گرفتار کرنے اور عدالت میں مقدمہ پیش کرنے کے اختیارات ریاستی اداروں کے پاس ہیں، لیکن سزا یا بریت کا فیصلہ آزاد عدالت کرتی ہے۔
پولیس کا کام قانون نافذ کرنا ہے، قانون سے بالاتر ہو کر سزا دینا نہیں۔ اگر کسی ملزم کے خلاف قتل، دہشت گردی، اغوا یا کسی دوسرے سنگین جرم کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں تو ریاست کو چاہیے کہ وہ ان شواہد کو عدالت کے سامنے پیش کرے۔ اگر تفتیش کمزور ہے، گواہان تحفظ سے محروم ہیں، پراسیکیوشن ناکام ہے یا مقدمات برسوں تک زیرِ التوا رہتے ہیں تو ان خامیوں کا حل ملزم کو عدالت سے پہلے موت کے حوالے کرنا نہیں ہو سکتا۔
ایسا طرزِ عمل صرف ملزم کے قانونی حقوق کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ اصل جرم کے مقدمے کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ جب ملزم مر جاتا ہے تو اس کے خلاف مقدمے کا عدالتی فیصلہ ممکن نہیں رہتا، شواہد کی جانچ کا ایک اہم مرحلہ ختم ہو جاتا ہے اور بعض حالات میں اصل واقعے کے حقائق بھی ہمیشہ کے لیے غیر واضح رہ سکتے ہیں۔
اس لیے پولیس مقابلوں کو جرائم کے خاتمے کا قابلِ اعتماد متبادل قرار دینے سے پہلے یہ جانچنا ضروری ہے کہ جرائم میں کمی کے دعوے کس بنیاد پر قائم ہیں۔ اگر کسی ادارے کے قیام کے بعد قتل یا قاتلانہ حملوں کے واقعات میں کمی رپورٹ کی گئی ہے تو اس کمی کی وجوہات، اعداد و شمار کی تعریف، تقابلی مدت اور دیگر عوامل کا جائزہ لینا چاہیے۔ محض دو اعداد و شمار کا تقابل یہ ثابت نہیں کرتا کہ کمی کی واحد وجہ مہلک پولیس کارروائیاں تھیں۔
ریاستی کارکردگی کا اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ جرائم کتنے کم ہوئے، کتنے مقدمات کامیابی سے عدالتوں میں ثابت ہوئے، کتنے بے گناہ محفوظ رہے اور کتنے اہلکاروں کو خلافِ قانون اقدام پر جواب دہ بنایا گیا۔
اگر قانون موجود ہے، تو اس کا نفاذ کیوں نہیں ہوتا؟
پاکستان میں حراستی اموات کی تحقیقات کے لیے قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ تشدد اور حراستی اموات (روک تھام و سزا) ایکٹ 2022، فوجداری طریقۂ کار اور دیگر متعلقہ قانونی دفعات کی روشنی میں ایسے واقعات کی قانونی حیثیت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہیے۔
یہاں بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ قانون کی کتاب میں کیا لکھا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ عملی طور پر اس پر کتنا عمل ہوتا ہے۔
کیا ہر حراستی موت کے بعد آزادانہ تحقیقات شروع ہوتی ہیں؟ کیا شواہد محفوظ کیے جاتے ہیں؟ کیا پوسٹ مارٹم غیر جانب دارانہ طور پر ہوتا ہے؟ کیا اہلکاروں کے بیانات کا دوسرے شواہد سے موازنہ کیا جاتا ہے؟ کیا متاثرہ خاندان کو مقدمے اور تحقیقات کی پیش رفت سے آگاہ رکھا جاتا ہے؟ اور اگر سرکاری اہلکاروں کے خلاف قابلِ اعتماد شواہد سامنے آئیں تو کیا ان کے خلاف بھی وہی قانونی کارروائی ہوتی ہے جو کسی عام شہری کے خلاف ہوتی ہے؟
یہی وہ سوالات ہیں جن سے ریاستی اداروں کی ساکھ متعین ہوتی ہے۔
قانونی کارروائی کے دعوے کو صرف اس بنیاد پر کافی نہیں سمجھا جا سکتا کہ پولیس نے ایف آئی آر درج کر دی یا محکمانہ انکوائری شروع ہو گئی۔ جب الزام خود قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے طرزِ عمل سے متعلق ہو تو تحقیقات کی آزادی، شفافیت اور نتائج کی قابلِ جانچ حیثیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
خاندانوں کا خوف: انصاف تک رسائی کا پوشیدہ بحران
حراستی ہلاکتوں کے معاملات میں ایک اور سنگین پہلو متاثرہ خاندانوں کی حالت ہے۔ ایچ آر سی پی کی تحقیق میں ایسے خاندانوں کے دعووں کا ذکر کیا گیا ہے جن کے مطابق انہیں لاش جلد دفنانے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا یا قانونی کارروائی کی صورت میں دوسرے رشتہ داروں کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئیں۔
اگر ایسے واقعات درست ثابت ہوں تو ان کی نوعیت محض پولیس کے کسی انفرادی اقدام تک محدود نہیں رہتی۔ یہ انصاف تک رسائی، گواہوں کے تحفظ اور ریاستی اداروں کے احتساب سے متعلق سنگین مسئلہ بن جاتے ہیں۔
ایک ایسا خاندان جس نے اپنے کسی فرد کو کھو دیا ہو، وہ پہلے ہی شدید صدمے سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اگر اسے قانونی کارروائی کے لیے خوف، مالی مشکلات، دھمکیوں یا انتظامی رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑے تو انصاف کا حصول مزید دشوار ہو جاتا ہے۔
اس لیے متاثرہ خاندانوں کے لیے قانونی معاونت، گواہوں کا تحفظ، لاش اور طبی ریکارڈ تک رسائی، اور تحقیقات کی پیش رفت سے متعلق بروقت معلومات کو احتساب کے بنیادی اجزا سمجھنا چاہیے۔ محض معاوضہ دینا بھی ہر سوال کا جواب نہیں، کیونکہ مالی تلافی اور فوجداری ذمہ داری کا تعین دو مختلف معاملات ہیں۔
اصلاحات: مقابلوں کی گنتی نہیں، جواب دہی کا نظام
اگر پنجاب میں سی سی ڈی کی کارروائیوں یا خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی کے بعض واقعات سے متعلق خدشات دور کرنے ہیں تو محض وضاحتیں، پریس کانفرنسیں یا محکمانہ بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے ایسے قابلِ عمل نظام کی ضرورت ہے جو ہر ہلاکت کے حالات کو آزادانہ طور پر جانچ سکے۔
سب سے پہلے، ہر حراستی موت اور ہر ایسے پولیس مقابلے میں جہاں کسی شخص کی جان چلی جائے، شواہد فوری طور پر محفوظ کیے جائیں۔ پوسٹ مارٹم اور فرانزک معائنہ آزاد ماہرین کی نگرانی میں ہو، اور تحقیقات کرنے والا ادارہ اس یونٹ سے الگ ہو جس کے اہلکاروں کے کردار کی جانچ ہو رہی ہو۔
دوسرے، ہر واقعے کی قانونی جانچ، مجسٹریٹ یا دیگر مجاز تحقیقاتی طریقۂ کار، اور حراستی موت سے متعلق متعلقہ قانون کے تقاضوں پر عمل کی تصدیق کی جائے۔ جہاں قانون کسی مخصوص ادارے یا افسر کی ذمہ داری متعین کرتا ہے، وہاں اس ذمہ داری کی ادائیگی کا ریکارڈ بھی قابلِ جانچ ہونا چاہیے۔
تیسرے، متاثرہ خاندانوں کو قانونی نمائندگی، ضروری ریکارڈ تک رسائی اور دھمکیوں سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ تحقیقات کی پیش رفت اور حتمی نتائج، جہاں قانون اور رازداری کے تقاضے اجازت دیں، عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ کسی بھی افسر کے خلاف کارروائی کا فیصلہ سیاسی دباؤ یا عوامی جذبات کے بجائے شواہد اور قانونی معیار پر ہونا چاہیے۔
چوتھے، پولیس کی کارکردگی جانچنے کے پیمانے میں صرف گرفتاریوں، ہلاکتوں یا مقابلوں کی تعداد شامل نہ ہو۔ مقدمات کی معیاری تفتیش، عدالتی سزاؤں کی قانونی بنیاد، جرائم کی روک تھام، شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور اہلکاروں کے خلاف الزامات کی غیر جانب دارانہ جانچ بھی کارکردگی کے بنیادی پیمانے بنائے جائیں۔
آخرکار، پولیس کو مؤثر بنانا اور پولیس کو جواب دہ بنانا ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ حقیقت میں یہی دونوں چیزیں ایک دوسرے کو مضبوط کرتی ہیں۔
ریاست کی طاقت کا اصل امتحان