کوئٹہ (پاک ٹوڈے) ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ بلوچستان کے پیچیدہ مسائل کا حل صرف طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں، بلکہ عام بلوچ عوام سے مسلسل مذاکرات ہی کامیابی کی کلید ہیں۔
کوئٹہ میں صحافیوں کے ایک گروپ کو بریفنگ دیتے ہوئے عہدیدار نے کہا کہ "ہمیں بلوچستان میں جنگ نہیں امن جیتنا ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ بیانیہ کا ہے، اور اگرچہ بلوچستان کو درپیش چیلنجز سنگین ہیں لیکن وہ ناقابل حل نہیں ہیں۔
عہدیدار نے کہا کہ بلوچستان کے لیے قلیل مدتی ردعمل کے بجائے 10 سالہ طویل المدتی اسٹریٹجک ویژن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ "بلوچستان میں کوئی غدار نہیں، 99.9 فیصد لوگ محب وطن ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان کے دیگر حصوں میں”۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ صوبے کے عوام کی حقیقی شکایات ہیں، اگرچہ کچھ خدشات کو سیاسی مقاصد کے لیے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکام نے گزشتہ سال بلوچستان میں عوام کے ساتھ تقریباً 54 ہزار جبکہ رواں سال 34 ہزار نشستیں کی ہیں۔ "ہم سرداروں سے نہیں عوام سے بات کرتے ہیں”۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے ان کے خلاف آپریشن جاری رہے گا، لیکن اس کے ساتھ سیاسی حل بھی ضروری ہے۔ سیاسی محرومی کو انہوں نے معاشی محرومی سے بڑا مسئلہ قرار دیا اور نشاندہی کی کہ آدھے رقبے پر مشتمل صوبے کی قومی اسمبلی میں صرف 16 نشستیں ہیں۔
عہدیدار نے بلوچستان کو سٹریٹجک وسائل کی جنگ کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں سونے، تانبے اور نایاب معدنیات کے تقریباً 6 ٹریلین ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرونہ بلاک میں سوئی سے کئی گنا زیادہ گیس کے ذخائر ہیں لیکن قبائلی مخالفت کی وجہ سے کام رکا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے اور سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
