لندن (پاک ٹوڈے): برطانیہ اور فرانس کے درمیان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق ’ون ان، ون آؤٹ‘ معاہدے کے تحت فرانس واپس بھیجے گئے سینکڑوں پناہ گزینوں کے لاپتہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق لاپتہ افراد میں کم از کم 41 ایسے بچے اور نوجوان بھی شامل ہیں جن کی عمروں پر تنازع تھا۔ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ان افراد کو فرانس واپس بھیجا گیا، حالانکہ تنہا نابالغ بچوں کو بالغوں کے حراستی مراکز میں رکھنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور انہیں اس معاہدے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
’ون ان، ون آؤٹ‘ پائلٹ اسکیم کا اعلان سابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے جولائی 2025 میں کیا تھا۔ معاہدے کے تحت انگلش چینل کے ذریعے چھوٹی کشتیوں پر برطانیہ پہنچنے والے بعض پناہ گزینوں کو فرانس واپس بھیجا جاتا ہے، جبکہ اس کے بدلے فرانس سے کچھ پناہ کے متلاشی افراد کو قانونی راستے سے برطانیہ منتقل کیا جاتا ہے۔
تازہ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 سے اب تک تقریباً 1,400 افراد کو فرانس واپس بھیجا جا چکا ہے، جو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے افراد کا تقریباً 4 فیصد ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار میں وہ افراد شامل نہیں جو واپسی کے بعد دوبارہ برطانیہ پہنچ گئے۔
برطانوی پارلیمنٹ میں ہونے والے ایک حالیہ اجلاس میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسکیم کے تحت واپس بھیجے گئے پناہ گزینوں کے لاپتہ ہونے اور دیگر مسائل پر ارکان پارلیمنٹ کو آگاہ کیا۔
’ہیومنز فار رائٹس نیٹ ورک‘ کی ڈائریکٹر میڈی ہارس کے مطابق مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے کم از کم 41 ایسے بچوں اور نوجوانوں کی فہرست مرتب کی ہے جنہیں ان کے بقول غیر قانونی طور پر فرانس واپس بھیجا گیا اور اب ان کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں۔
تاہم برطانوی ہوم آفس نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایسے شخص کو فرانس واپس نہیں بھیجا گیا جس کی عمر متنازع ہو۔ ہوم آفس کے مطابق زیر حراست افراد کو قانونی نمائندگی تک رسائی دی جاتی ہے اور عمر کا جائزہ سرحدی نظام کی سالمیت برقرار رکھنے کے لیے لیا جاتا ہے۔
دوسری جانب آزاد نگرانی کرنے والے ادارے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈز نے بھی خدشات ظاہر کیے ہیں کہ تقریباً 100 بچوں کو غلط طور پر بالغ قرار دے کر حراست میں رکھا گیا۔
فرانسیسی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فرانس واپس بھیجے گئے افراد میں سے صرف تقریباً 200 افراد اب بھی حکام کے رابطے میں ہیں، جبکہ دیگر افراد یورپ کے مختلف ممالک میں روپوش ہو گئے ہیں۔ بعض متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ فرانسیسی حکام کے سخت رویے، اپنے آبائی ممالک واپس بھیجے جانے کے خوف اور دیگر یورپی ممالک منتقل کیے جانے کے خدشے کے باعث وہ حکام سے رابطے میں نہیں رہے۔
طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (Médecins Sans Frontières) کی نمائندہ نہال عثمان نے بھی پارلیمانی اجلاس میں بتایا کہ برطانیہ سے فرانس واپس آنے والے بعض پناہ گزین شدید نفسیاتی دباؤ، خوف، خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات اور دیگر سنگین نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔
دریں اثنا ’ون ان، ون آؤٹ‘ معاہدے کی مدت یکم اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والی ہے۔ برطانوی حکومت معاہدے میں توسیع اور اسے مزید مؤثر بنانے کی خواہاں ہے، جبکہ فرانس اس دوطرفہ انتظام کو ختم کرکے برطانیہ اور پورے یورپ کے درمیان وسیع تر معاہدہ چاہتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے سرحدی نگرانی، پناہ گزینوں کے قانونی تحفظ اور مبینہ غیر انسانی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔