برطانوی راج سے ملٹری ہائبرڈ ماڈل تک: کیا پاکستان واقعی آزاد ہے؟

برطانوی راج سے ملٹری ہائبرڈ ماڈل تک: کیا پاکستان واقعی آزاد ہے؟

مزمل شاہد

ہر سال 14 اگست کو پاکستان بھر میں سبز ہلال پرچم لہرائے جاتے ہیں، سائرن بجتے ہیں، اور قومی نغموں کی گونج میں آزادی کا جشن منایا جاتا ہے۔ 1947ء میں برطانوی سامراج کے سورج کے غروب ہونے پر نقشہ عالم پر ابھرنے والی یہ ریاست آج اپنے وجود کے تقریبا آٹھ دہائیوں کا سفر طے کر چکی ہے۔ لیکن اس روایتی جشن اور شاندار عمارتوں پر جگمگاتی چراغاں کے پیچھے ایک سوال دہائیوں سے ہر فکر مند شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے: کیا پاکستان حقیقت میں آزاد ہے؟

اگر آزادی کا مطلب صرف ایک علیحدہ جغرافیائی سرحد، قومی ترانہ اور اقوامِ متحدہ میں ایک نشست ہے، تو پاکستان یقیناً آزاد ہے۔ لیکن اگر آزادی سے مراد عوام کی خودمختاری، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کا احترام، معاشی خودکفالت اور بیرونی اثر و رسوخ سے پاک پالیسیاں ہیں، تو آج کا پاکستان خود اپنے ہی بنائے ہوئے سیاسی، معاشی اور عسکری نظام کا قیدی نظر آتا ہے۔ برطانیہ کے نوآبادیاتی تسلط سے نجات پانے کے بعد، یہ ملک بیرونی غلامی اور اندرونی فوجی غلبے کے ایسے دائرے میں الجھ گیا ہے جہاں عام شہری کے حقوق اور قانون کی حیثیت ثانوی ہو کر رہ گئی ہے۔

برطانوی نوآبادیاتی ترکہ اور امریکی غلامی کی زنجیریں

پاکستان نے 1947ء میں برطانوی راج سے نجات حاصل کی، لیکن انگریز حکمرانوں کا بنایا ہوا انتظامی، قانونی اور نوآبادیاتی اندازِ فکر ملک سے ختم نہ ہو سکا۔ انگریزوں نے برصغیر پر حکومت کے لیے جو پولیس اور نوکر شاہی کا نظام بنایا تھا، اس کا مقصد شہریوں کو حقوق دینا نہیں بلکہ ان پر حکمرانی کرنا اور انہیں دبانا تھا۔ پاکستان نے اسی پرانے، بوسیدہ اور عوامی جذبوں سے عاری نظام کو من وعن اختیار کر لیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام اور ریاست کے درمیان حاکم اور محکوم کا رشتہ قائم رہا۔

برطانیہ کے جانے کے بعد پاکستان کے حکمرانوں نے آزادی کو مضبوط کرنے کے بجائے بیرونی طاقتوں کا دستِ راست بننا قبول کیا۔ 1950ء کی دہائی میں SEATO اور CENTO جیسے امریکی دفاعی معاہدوں میں شمولیت سے لے کر سرد جنگ میں امریکہ کا آلہ کار بننے تک، پاکستان نے اپنی مستقل خارجہ پالیسی کا سودا کر دیا۔
1980ء کی دہائی کی افغان جنگ ہو یا 2001ء کے بعد کی "دہشت گردی کے خلاف جنگ” پاکستان کے حکمرانوں نے امریکی مفادات، ڈالروں اور امداد کی خاطر ملکی سلامتی اور عوام کے روز و شب کو داؤ پر لگایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں انتہا پسندی، بارود کا دھواں اور معاشی تباہی پھیل گئی۔ آج عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کی سخت شرائط پر چلنے والی معیشت اس بات کا ثبوت ہے کہ بجٹ کی تشکیل سے لے کر ٹیکسوں کے نفاذ اور بجلی کے نرخوں تک، تمام بنیادی فیصلے واشنگٹن اور بین الاقوامی اداروں کی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔ یہ حالتِ زار معاشی اور سیاسی غلامی کا نوآبادیاتی دور سے بھی بدتر روپ ہے۔

فوجی قبضہ، ہائبرڈ ماڈل اور جمہوریت کی تذلیل

پاکستان کی تاریخ فوجی آمریتوں اور آئین کی پامالیوں کی طویل داستان ہے۔ 77 سالہ تاریخ میں ملک نے نہ صرف چار مستحکم مارشل لا دیکھے بلکہ ان ادوار نے جمہوریت کی جڑوں کو ایسا کھوکھلا کیا کہ سویلین ادارے کبھی پنپ ہی نہ سکے۔
جب فوجی حکمرانوں نے براہِ راست اقتدار چھوڑا، تو انہوں نے "ہائبرڈ جمہوریت” کا ایسا فارمولا متعارف کرایا جس میں سیاسی حکومتیں صرف ایک نمائشی چہرہ ہوتی ہیں جبکہ حقیقی اختیارات کی ڈوریاں راولپنڈی (ملٹری اسٹبلشمنٹ) کے پاس ہوتی ہیں۔
انتخابات کو غیر شفاف بنانا، من پسند سیاسی جماعتوں کی تشکیل اور توڑ پھوڑ، اور مقبول سیاسی رہنماؤں کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے سائیڈ لائن کرنا ایک مستقل طریقہ کار بن چکا ہے۔
عدلیہ، نیب (NAB)، اور الیکشن کمیشن جیسے آئینی اداروں کو طاقتور حلقوں کی جانب سے سیاسی انتقام، اپوزیشن کی زبان بندی اور فیصلوں کی مرضی کے مطابق ڈرافٹنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
فوج صرف دفاعی امور تک محدود نہیں رہی بلکہ کاروبار، زمینوں کی الاٹمنٹ، زراعت، اور اہم انتظامی اداروں کے سیاہ و سفید کی مالکہ بن چکی ہے، جس سے ملک میں "ریاست کے اندر ریاست” کا عمل گہرا ہو چکا ہے۔

انسانی حقوق کا پامال ہونا اور ریاستی مظالم کی داستان

حقیقی آزادی کی بنیاد انسانی کرامت، مساوات اور بنیادی حقوق کی پاسداری پر ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال دن بہ دن ابتر ہوتی جا رہی ہے:
* بلوچستان، خیبر پختونخوا اور حتیٰ کہ پنجاب اور سندھ سے صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاسی فعالین اور طلبہ کو بغیر کسی قانونی جواز اور عدالت میں پیش کیے بغیر غائب کر دینا معمول بن چکا ہے۔ حقوق کی آواز اٹھانے والے بلوچ اور پشتون شہریوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے، اس نے وفاق کو اندر سے شدید نقصان پہنچایا ہے۔

*ملک میں آزادانہ صحافت دم توڑ چکی ہے۔ ٹی وی چینلز کو ہدایات جاری کی جاتی ہیں، صحافیوں پر حملے اور مقدمات قائم کیے جاتے ہیں، اور سوشل میڈیا کو مختلف پے در پے پابندیوں یا انٹرنیٹ بندشوں کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

*سویلین شہریوں کے مقدمات کو عسکری عدالتوں میں چلانا بنیادی آئینی و انساني حقوق کی نفی اور قانون کی بالا دستی کے منہ پر تمانچہ ہے۔ عدالتوں کے فیصلے آئین کے بجائے فون کالز اور اعلیٰ احکامات کے تابع نظر آتے ہیں۔

کیا پاکستان واقعی آزاد ہے؟

اگر ہم آزادی کا کا جائزہ معروضی نظر سے لیں، تو پاکستان کے لیے "حقیقی آزادی” کا دعویٰ کرنا محض ایک خود فریب خواب لگتا ہے۔
عوام کا ووٹ اب اپنے حکمران کا فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ فیصلوں کی منظوری کہیں اور سے لی جاتی ہے۔ ملک غیر ملکی قرضوں کی دلدل میں دبا ہوا ہے اور اپنی بنیادی معاشی پالیسیاں خود بنانے میں بالکل ناکام ہے۔ ریاست اپنے شہریوں کا تحفظ کرنے کے بجائے خود ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتی اور انہیں جبر کا نشانہ بناتی نظر آتی ہے۔
لہٰذا، پاکستان کو ایک ایسا ملک کہا جا سکتا ہے جس کی سرحدیں تو آزاد ہیں لیکن اس کے عوام اور ادارے داخلی و خارجی غلبے کی قید میں ہیں۔

یومِ آزادی کا موقع صرف آتش بازی اور پرچم لہرانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا دن ہے جو ہم سے کڑا احتساب مانگتا ہے۔ 1947ء میں تحریکِ پاکستان کے بانیوں نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، وہ ایک ایسی اسلامی اور فلاحی ریاست کا خواب تھا جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور تمام شہریوں کو مساوی حقوق ملیں۔
پاکستان کو اس وقت تک واقعی آزاد قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک نوآبادیاتی طرزِ فکر کا خاتمہ نہیں ہوتا، فوجی مداخلت سیاست سے مکمل طور پر بند نہیں ہوتی، اور بیرونی اثر و رسوخ کو ختم کر کے تمام تر فیصلے عوامی مفاد میں نہیں کیے جاتے۔ حقیقی آزادی کی منزل اسی دن حاصل ہوگی جب پاکستان کا عام شہری بغیر کسی خوف و خطر کے جینے، بولنے اور اپنے حکمرانوں کے انتخاب کا آزادانہ حق استعمال کر سکے گا۔

Related posts

سچائی، ذمہ داری اور اعتماد کا نیا عہد: پاک ٹو ڈے کا باضابطہ آغاز