واشنگٹن (پاک ٹوڈے): مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا غیر محفوظ استعمال مستقبل قریب میں سائبر حملوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ اس ٹیکنالوجی کو نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ اے آئی کے ذریعے کیے جانے والے سائبر حملے آنے والے وقت میں نمایاں خطرات میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق فی الحال بنیادی تشویش مصنوعی ذہانت کا خود قابو سے باہر ہونا نہیں، بلکہ ایسے افراد کی جانب سے اس کا غلط استعمال ہے جو حفاظتی نظام کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بل گیٹس نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے ممکنہ نقصانات کو محدود کرنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات اور ضابطہ بندی ضروری ہے، تاکہ شرپسند عناصر اس ٹیکنالوجی کو سائبر حملوں اور حیاتیاتی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جدید ترین اے آئی ماڈلز اگر مناسب حفاظتی انتظامات کے بغیر غلط ہاتھوں میں پہنچ جائیں تو سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں، خصوصاً سائبر سکیورٹی کے شعبے میں اس کے اثرات تشویش ناک ہوسکتے ہیں۔
مائیکروسافٹ کے شریک بانی اس سے قبل اگست میں بھی مصنوعی ذہانت کے باعث دنیا میں متوقع بڑی تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بالخصوص روزگار پر اے آئی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہے۔
بل گیٹس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف سے بھی اختلاف کیا کہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیاں اپنی نگرانی اور ضابطہ بندی کے ذریعے ان خطرات پر قابو پاسکتی ہیں۔ ان کے مطابق اتنی طاقتور اور ممکنہ طور پر خطرناک ٹیکنالوجی کی نگرانی صرف متعلقہ کمپنیوں پر نہیں چھوڑی جاسکتی، کیونکہ معاشرے کو محفوظ رکھنے کے لیے موجودہ اقدامات کافی نہیں ہیں۔