ایمل ولی خان کا گورنر راج کی مخالفت کا اعلان، سخت فیصلے کی حمایت نہیں کروں گا

چارسدہ (پاک ٹوڈے): عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے سخت فیصلے کی حمایت نہیں کریں گے۔

باچا خان مرکز چارسدہ میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی نے گورنر راج کی مخالفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پختونوں کے لیے موجودہ فیصلہ کڑوا ہے تو ماضی کے فیصلے اس سے بھی زیادہ کڑوے تھے۔ ان کے بقول پاکستان تحریک انصاف کے گزشتہ تین ادوار بھی غیر جمہوری تھے اور جن معاملات پر آج بات ہو رہی ہے، اے این پی گزشتہ 12 سے 13 سال سے ان کی نشاندہی کرتی آ رہی ہے۔

ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ گورنر خیبر پختونخوا ان کے حقوق کی وکالت کریں گے تو اے این پی بھرپور ساتھ دے گی۔

انہوں نے احتساب بلا امتیاز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو معافی نہیں ملنی چاہیے۔ بی آر ٹی، بلین ٹری اور مالم جبہ مقدمات سے حکمِ امتناع ختم کیے جائیں، کیونکہ ان منصوبوں میں قوم کے اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے الزامات ہیں۔

Related posts

وزارتِ مواصلات میں دو سال کے دوران 222 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

پی ٹی آئی سے لوٹ مار کا حساب لیں گے، امیر مقام

بلاول بھٹو: دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل طے ہو تو کے پی میں گورنر راج ختم ہو سکتا ہے