ایمان مزاری اور شوہر کی دوبارہ گرفتاری، اسلام آباد بار کا عدالتی بائیکاٹ کا اعلان

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حاضیر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی دوبارہ گرفتاری کے خلاف ہفتہ 19 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت کی عدالتوں میں عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جمعہ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 19 ستمبر کو وکلا اسلام آباد کی کسی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔ آئی بی اے نے جوڑے کی دوبارہ گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عدالتی احکامات اور بنیادی حقوق سے متعلق سنگین معاملہ قرار دیا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جمعرات کی شب اس وقت دوبارہ گرفتار کیا گیا جب سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں ان کی سزائیں معطل کرتے ہوئے ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔ اس مقدمے میں جوڑے کو پی ای سی اے کے تحت مختلف الزامات میں 17، 17 سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد دونوں کو اڈیالہ جیل سے رہائی ملی، تاہم اسلام آباد پولیس نے جیل کے باہر ہی انہیں ایک دوسرے مقدمے میں گرفتار کرلیا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا، جہاں سے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

دوسرا مقدمہ 22 مارچ 2025 کو کوہسار تھانے میں سٹی مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ چانڈیو کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو حکومت مخالف نعرے لگانے اور سڑکیں بلاک کرنے کے الزامات میں نامزد کیا گیا تھا۔

اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا کہ عدالتی احکامات کو نظرانداز یا ناکام بنانے کی کوئی بھی کوشش قابل قبول نہیں۔ بار نے نامعلوم ایف آئی آر کی بنیاد پر گرفتاریوں کے طریقہ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

آئی بی اے نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی گرفتاریوں سے متعلق مقدمات اور حالات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لانے پر زور دیا۔ بار ایسوسی ایشن نے عدالتی آزادی، قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

 

Related posts

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور طبیعت ناساز ہونے پر اسپتال منتقل

ناگویا میں 20ویں ایشین گیمز کا پروقار آغاز: 45 ممالک کے 11 ہزار سے زائد ایتھلیٹس کے درمیان مقابلے جاری

اگر سرحد پار سے دہشتگرد آتے ہیں تو انہیں روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ میاں افتخار حسین