تہران (پاک ٹوڈے): ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں شدید لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو ایران علاقائی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق ایرانی تجویز پر امریکا کا جواب ناکافی ہے۔ رضائی کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کردہ سات شرائط میں سے بعض کو قبول کیا گیا ہے، تاہم دیگر شرائط کے حوالے سے صورت حال اب بھی واضح نہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق بیانات کے بعد سکیورٹی مشاورت کی ہے۔ اسرائیلی چینل 13 کے مطابق، ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کا تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، جبکہ امریکی فوج کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔
ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کو ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان منصوبوں میں تقریباً تین روز پر مشتمل شدید فوجی مہم بھی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم ایران کے خلاف نئی کارروائی کے آغاز سے متعلق تاحال کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
