ایران کا عاصم منیر سے ملاقات میں دوٹوک مؤقف، مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے مذاکرات سے انکار

تہران (پاک ٹوڈے): ایران نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوں کے دوران واضح کیا ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

ڈی ڈبلیو کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر منگل کو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور امن معاہدے کے لیے سفارتی کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچے تھے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عاصم منیر سے ملاقات کے دوران کہا کہ امریکہ کو پہلے دھمکیاں اور پابندیاں ختم کرنا ہوں گی، اس کے بعد ہی مذاکرات ممکن ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کو امریکہ پر اعتماد نہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ مذاکرات کے باوجود امریکہ دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی اسی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کی جانب سے پیش کردہ سات شرائط پوری کیے بغیر تہران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق امریکی دھمکیاں اور فوجی مشقیں ایران کے تزویراتی فیصلوں کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔

ایرانی مطالبات میں خطے کے تمام محاذوں پر جنگ بندی، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں اٹھانا شامل ہیں۔

ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی نے بھی عاصم منیر سے الگ ملاقات میں کہا کہ مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنا افزودہ جوہری مواد ملک سے باہر منتقل نہیں کرے گا۔

پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے، تاہم عاصم منیر کے دورۂ تہران کے بعد پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

Related posts

بنوں: ڈومیل میں امن کمیٹی کی کارروائی، مشتبہ ٹھکانے تباہ

بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کی رہائی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

برطانیہ کی جیل میں پاکستانی نژاد منیر احمد فاروقی انتقال کر گئے