تہران/ریاض (پاک ٹوڈے): ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں تہران پہلے سے زیادہ شدید اور مہلک فوجی جواب دے گا، جبکہ سعودی عرب کے جنوبی علاقے عسیر میں حوثیوں کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائل کو روکنے کے بعد اس کا ملبہ گرنے سے ایک شہری زخمی ہوگیا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ایران کسی بھی امریکی یا علاقائی فوجی کارروائی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ تہران کے پاس خطے میں امریکی اور اسرائیلی فوجی تنصیبات اور پوزیشنز سے متعلق وسیع معلومات موجود ہیں۔
ایرانی انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ اور میکن آئی لینڈ ایمفی بیئس ریڈی گروپ خطے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
سعودی عرب کے جنوبی علاقے عسیر کے گورنریٹ احد رفیدہ میں حوثیوں کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائل کو سعودی فضائی دفاع نے روک لیا، تاہم میزائل کا ملبہ آبادی میں گرنے سے ایک ایشیائی شہری زخمی ہوگیا۔
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق میزائل کے ملبے سے ایک عمارت میں موجود نماز گاہ اور متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ سعودی حکام نے زخمی شہری کی حالت سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
سعودی حکام کے مطابق خمیس مشیط کی جانب داغے گئے 3 بیلسٹک میزائل بھی روک کر تباہ کیے گئے، جبکہ 4 ڈرونز کو ناکام بنانے کی بھی اطلاع دی گئی۔ نجران میں بھی ایک میزائل یا مبینہ دشمن پروجیکٹائل اسکول سے ٹکرایا، جس سے عمارت کو نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی فوجی کشیدگی کے ساتھ سعودی عرب میں بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
