تہران (پاک ٹوڈے): میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق اردن میں واقع موفق سلطی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے والے ایرانی میزائل حملوں میں کئی امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا۔
ذرائع کے مطابق تقریباً آٹھ ایف-15 طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا اور مرمت کے بعد انھیں دوبارہ فضائی بیڑے میں شامل کر دیا گیا۔ معاملے کی حساسیت کے باعث ان ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اے-10 تھنڈربولٹ حملہ آور طیارہ، جو وار تھاگ کے نام سے معروف ہے، میزائل حملے کے نتیجے میں اپنے ایک ونگ سے محروم ہو گیا۔
سی بی ایس سے بات کرنے والے انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ان حملوں میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا۔
یہ حملے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد ہوئے جب امریکہ نے کہا تھا کہ اس نے امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز پر ایرانی حملوں کے جواب میں پانچ ایرانی تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے آٹھ امریکی تیل بردار ٹینکروں اور دو جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں اردن کا موفق سلطی فضائی اڈہ بھی شامل ہے۔
سی بی ایس نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ اردن میں تعینات امریکی افواج نے ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے 30 سے زیادہ پیٹریاٹ میزائل داغے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سی بی ایس اس سے قبل امریکی حکام کے حوالے سے یہ خبر دے چکا ہے کہ کئی ماہ سے جاری لڑائی کے بعد امریکی پیٹریاٹ میزائلوں اور بعض دیگر جدید ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
پینٹاگون کے حکام نے تاحال موفق سلطی اڈے پر موجود طیاروں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات کی نہ تو باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے