اسلام آباد (پاک ٹوڈے)انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی وزیر اور خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے 9 مئی کے مقدمے میں نامزد مینا خان آفریدی کا پاسپورٹ ضبط اور بلاک کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
عدالت کے مطابق مینا خان آفریدی گرفتاری سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر روپوش ہیں۔ وہ اسلام آباد میں درج ایف آئی آر نمبر 544/24 میں نامزد ملزم ہیں۔ اس مقدمے میں انہیں 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات سے جوڑا گیا ہے۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پاسپورٹ ضبط اور بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے احکامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ملزم ملک سے باہر نہ نکل سکے۔
مینا خان آفریدی خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی رکن اور اعلیٰ تعلیم کے صوبائی وزیر ہیں۔ وہ پی ٹی آئی کی اہم رہنما مانے جاتے ہیں۔ 9 مئی 2023 کو سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد احتجاج ہوئے تھے، جن میں فوجی تنصیبات اور سرکاری املاک پر حملے بھی شامل تھے۔ ان واقعات کے تناظر میں اسلام آباد سمیت متعدد شہروں میں متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر مینا خان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دے دیا۔
عدالت نے 9 مئی کے مقدمے میں نامزد مینا خان کا پاسپورٹ ضبط اور بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔
21
