امریکہ نے افغان جنگ کے دوران امریکی فوج کی مدد کرنے والے افغان شہری کے بھائی کو ملک بدر کر دیا۔

واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی حکومت کی جانب سے تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک افغان شہری کو، جس کے بھائی ماضی میں امریکی فوج کے ساتھ تعاون کرتے رہے تھے، ملک بدر کر کے وسطی افریقی جمہوریہ بھیج دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 20 سال سے زائد عمر کے اس افغان شہری کو امریکی جج کی جانب سے طالبان کی انتقامی کارروائیوں کے خدشے کے پیشِ نظر افغانستان ملک بدر کیے جانے سے قانونی تحفظ حاصل تھا۔ اس کی وکیل الما ڈیوڈ نے انکشاف کیا کہ مذکورہ شہری کے ایک بھائی افغان نیشنل آرمی میں شامل اور امریکی فوج کے ساتھ معاونت کرتے رہے ہیں، جبکہ ایک اور بھائی جو امریکی تربیت یافتہ پائلٹ تھا، طالبان کے ہاتھوں قتل ہو چکا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ‘ہیومن رائٹس فرسٹ’ کی نمائندہ ساوی آروی نے تصدیق کی ہے کہ ایک خصوصی فلائٹ کے ذریعے 12 افغان، 8 ایرانی اور نیپال و نکاراگوا سے تعلق رکھنے والے متعدد تارکینِ وطن کو وسطی افریقی جمہوریہ کے دارالحکومت بانگوئی منتقل کر دیا گیا ہے۔

Related posts

سوات موٹروے پر فلائنگ کوچ اور ڈمپر میں تصادم، 4 افراد جاں بحق، 7 شدید زخمی

لکی مروت: عبدالخیل میں لکی پولیس اور امن کمیٹی کی مشترکہ کارروائی، مبینہ جنگجوؤں کے گھر نذرِ آتش

واشنگٹن: معاہدہ بھی اسرائیل کو ایران پر حملے سے نہیں روک سکتا: اسرائیلی وزیر توانائی