کابل (پاک ٹوڈے): سابق امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد نے افغانستان کو ریاست تسلیم نہ کرنے سے متعلق پاکستانی فوج کے ترجمان کے بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان پاکستان کے قیام سے کئی صدیاں پہلے سے ایک ریاست کی حیثیت رکھتا ہے۔
زلمے خلیل زاد نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کے حوالے سے اپنی ایسی پالیسی تبدیل کرے جو ان کے بقول خطرناک اور ناکام ثابت ہوئی ہے۔
انہوں نے گزشتہ شب ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لیے اہم ہیں اور دونوں ممالک کو مثبت تعلقات کے قیام کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔
یہ ردعمل پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان ایک ریاست نہیں بلکہ ایک غیر ریاستی عنصر کے زیرِ انتظام ہے۔
فوجی ترجمان نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے افغان حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس کی جانب سے شدت پسندوں کی حمایت جاری رہی تو اسے اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان 1947 میں برطانوی ہندوستان کی تقسیم کے نتیجے میں قائم ہوا تھا، جبکہ 1971 میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا تھا۔
