اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کی مبینہ پناہ گاہوں، بھرتی اور تربیتی نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ اعتبار اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں۔
پاکستانی وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں اور ان کی بھرتی و معاونت کے مبینہ ڈھانچے کی موجودگی پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ وزارت کے مطابق یہ تحفظات افغان طالبان حکومت اور اس کے نمائندوں کے سامنے متعدد مرتبہ اٹھائے جا چکے ہیں۔
پاکستان طویل عرصے سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت بعض عسکریت پسند گروہوں کے افغان سرزمین پر موجود ہونے اور وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ان گروہوں کو افغانستان میں موجود سہولتوں کے باعث پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں میں مدد ملتی ہے۔
دوسری جانب افغان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے کسی گروہ کو ٹھکانہ فراہم کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ افغان حکومت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار حکومت کی حیثیت سے اپنی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔
افغان حکومت کے مطابق پاکستان میں دہشتگردی کا مسئلہ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے موجود ہے اور اسے موجودہ افغان حکومت سے جوڑنا درست نہیں۔ کابل کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو اپنے ملک میں موجود سکیورٹی اور دہشتگردی کے مسائل کی ذمہ داری افغانستان پر ڈالنے کے بجائے ان کے بنیادی اسباب پر توجہ دینی چاہیے۔
پاکستانی وزارت اطلاعات نے افغان حکومت سے عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ایسے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے جو اسلام آباد کے مطابق قابلِ اعتبار، قابلِ تصدیق اور دیرپا ہوں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور تعمیری روابط جاری رکھنے کے حق میں ہے، تاہم سکیورٹی خدشات کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
وزارت اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔
یہ بیان کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق حملے میں 17 پولیس اہلکاروں سمیت 23 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ کلیئرنس آپریشن کے دوران 8 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔
افغان وزارت خارجہ نے کوہاٹ حملے کی مذمت کرتے ہوئے عبادت گاہوں پر حملوں کو ناقابلِ جواز قرار دیا اور متاثرین کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ تاہم پاکستان کی وزارت اطلاعات نے کہا کہ مذمت کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
پاکستان کے اقوام متحدہ میں مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے ہونے والے عسکریت پسندوں کے حملوں میں 4 ہزار 700 سے زائد پاکستانی جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس دعوے کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں شامل نہیں ہے۔
