پشاور (پاک ٹوڈے): ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے اثرات عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ پشاور میں پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ایک بار پھر نامزد اضافہ کر دیا گیا ہے، جس سے بین الصوبائی، بین الاضلاعی اور اندرونِ شہر سفر مزید مہنگا ہو گیا ہے۔
ٹرانسپورٹ مالکان اور اڈا انتظامیہ کے مطابق پشاور سے ملک کے دیگر بڑے شہروں بشمول راولپنڈی، لاہور اور کراچی کے لیے کرایوں میں 100 روپے سے لے کر 2500 روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق ایئر کنڈیشنڈ اور نان ایئر کنڈیشنڈ دونوں قسم کی گاڑیوں پر یکساں طور پر ہوگا۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع کے لیے چلنے والی مسافر گاڑیوں کے کرایوں میں 100 سے 500 روپے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ اندرونِ شہر پشاور کے مقامی روٹس پر کرائے 5 سے 20 فیصد تک بڑھا دیے گئے ہیں۔
سفر کے ساتھ ساتھ مال برداری کے اخراجات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق مختلف شہروں کے لیے بکنگ کرنے والے ٹرالرز، ٹرکوں اور دیگر وہیلرز کے کرایوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سامانِ رفت و آمد (کارگو) کی لاگت بڑھنے سے عام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب، اچانک کرایوں میں اضافے کے باعث مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان تکرار کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ شہریوں نے حکومت اور مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کرایوں کے اس ازخود اضافے کا نوٹس لیا جائے اور سرکاری سطح پر کرایہ نامہ جاری کر کے اس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔
