پشاور (پاک ٹوڈے): سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے دیے گئے بیان پر خیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن نثار باز خان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
فواد چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا ایک حل یہ ہے کہ قوم پرست پختون اور بلوچ قبائل اور خاندانوں کو افغانستان بھیج دیا جائے تاکہ وہ اپنے وطن میں افغان طالبان کے زیر انتظام اسلامی ریاست میں زندگی گزار سکیں۔
فواد چوہدری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے نثار باز خان نے کہا کہ پختون ہزاروں سال سے اپنی ’’ماں دھرتی پختونخوا‘‘ پر آباد ہیں اور آئندہ بھی یہیں رہیں گے، وہ اس سرزمین کے والی وارث ہیں۔
نثار باز خان نے فواد چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں پختونوں کو افغانستان بھیجنے کا شوق ہے تو ’’مارگلہ کی پہاڑیوں میں باڑ لگا دیں‘‘۔
انہوں نے فواد چوہدری پر گزشتہ ایک ماہ سے پختونخوا کے پختونوں کے خلاف زہر اگلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی طور پر یتیم ہوچکے ہیں اور خود کو سیاست میں متعلق رکھنے کے لیے مسلسل پختونخوا کے پختونوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
نثار باز خان نے مزید کہا کہ فواد چوہدری کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کی مرہون منت رہی ہے اور الزام عائد کیا کہ وہ گلی محلے کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتے تھے۔ انہوں نے فواد چوہدری کو ’’جرنیل شاہی کا بعل بچہ‘‘ قرار دیتے ہوئے نسل پرستی اور نفرت پھیلانے کا بھی الزام عائد کیا۔
دونوں رہنماؤں کے بیانات میں ایک دوسرے کے خلاف کیے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں شامل نہیں ہے۔
