اسلام آباد میں جے یو آئی سے منسلک متعدد مدارس کو سی ڈی اے کے نوٹسز جاری

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک متعدد مدارس کو بلڈنگ کنٹرول قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر نوٹسز جاری کردیے ہیں۔ نوٹسز میں غیر منظور شدہ تعمیرات، عمارتوں کے استعمال اور تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ کو مقررہ مدت میں اصلاحی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق مدرسہ اخترالعلوم، بلال ٹاؤن، کورنگ نالہ، کھنہ ڈاک میں منظور شدہ بلڈنگ پلان کے بغیر تعمیرات کی گئی ہیں۔ مدرسے کی انتظامیہ کو 15 روز کے اندر تعمیراتی نقشے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ عدم تعمیل کی صورت میں عمارت سیل کرنے کی کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔

اسی طرح ادارہ معارف اسلامیہ، شریعہ ربانیہ اور تفی القرآن سمیت دیگر مقامات پر بھی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سی ڈی اے کے نوٹس کے مطابق سیکٹر ایف 8/3 میں واقع ایک عمارت میں سیٹ بیکس اور چھت پر غیر مجاز تعمیرات کی گئی ہیں۔

اتھارٹی نے عمارت کو رہائشی استعمال کے بجائے مدرسے کے طور پر استعمال کرنے پر بھی اعتراض اٹھایا ہے اور انتظامیہ کو تمام نشاندہی شدہ خلاف ورزیاں 15 روز میں ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مقررہ مدت میں عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں عمارت سیل کرنے، جرمانہ عائد کرنے اور الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب سی ڈی اے نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ پر بھی مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کی نشاندہی کرتے ہوئے نوٹس چسپاں کیا تھا۔ انہیں گھر کے سیٹ بیکس پر قائم غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کے لیے 15 روز کی مہلت دی گئی ہے، بصورت دیگر عمارت سیل کرنے یا غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے کی کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔

سی ڈی اے کی جانب سے یہ نوٹس امان اللہ محمد یونس کو عمارت کا مالک قرار دیتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 18 مارچ 2019 کو بھی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ سے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔

ان کارروائیوں پر مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسجد محمود نے ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پشاور میں کورکمانڈر کے سامنے تجاوزات کی نشاندہی کرنے کے بعد انتقامی کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب نشاندہی کا کوئی جواب نہ ملا تو مخالفین اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔

مولانا اسجد محمود نے مزید کہا کہ ملک کے تمام ادارے ایک شخص کے انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے استعمال ہورہے ہیں، جبکہ سیاسی اختلافات کو ذاتی انتقام میں تبدیل کرنا تشویش ناک ہے۔

Related posts

گوجرانوالہ میں ولیمے کے روز دلہن صبا کو قتل کرنے کا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتکِ عزت کے دعوے پر سماعت 14 نومبر تک ملتوی

ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر مزید 173 روپے 86 پیسے مہنگا ہوگیا