اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب تیزی سے جاری ہے، جس کے تحت ملک میں خواتین کے موبائل انٹرنیٹ استعمال کی شرح 45 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ ‘اکانومی فورم’ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے ملکی ڈیجیٹل پیشرفت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل صارفین کی مجموعی تعداد 15 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران ملک میں ڈیٹا کے استعمال میں تقریباً 25 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
احسن اقبال نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی تقویت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان میں فائبر کنکشنز کی تعداد 50 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے، جبکہ حکومت کا اگلا ہدف وائرڈ براڈ بینڈ کی رسائی کو ایک کروڑ گھرانوں تک ممکن بنانا ہے۔
انہوں نے ڈیجیٹل اور قومی ترقی کے لیے خواتین کی شمولیت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی ڈیجیٹل شاہراہ پر آمد معاشی استحکام کی ضامن ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر کی سطح کو چھو رہی ہیں، جو ملک کی اقتصادی سمت میں بہتری کی واضح علامت ہے۔
آئندہ کے اہداف پر بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کا اگلا مقصد ٹیکنالوجی کی مصنوعات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں کو فروغ دینا ہے تاکہ ملک کو جدید ڈیجیٹل معیشت کی صف میں کھڑا کیا جا سکے۔
