انڈونیشیا (پاک ٹوڈے): انڈونیشیا کے مشہور آتش فشاں "آناک کراکاٹوا” کے اچانک پھٹنے سے ملک بھر میں فضائی سفر اور عام معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو گئے ہیں۔ آتش فشانی راکھ کے گرد آلود بادل ہزاروں میٹر کی بلندی تک پہنچ کر جاوا اور سماٹرا کے متعدد علاقوں میں پھیل گئے ہیں، جس کے باعث حکام کو فوری اقدامات کرنا پڑے۔
دارالحکومت جکارتہ کے اہم ‘سوئیکارنو ہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ’ پر راکھ کی آمد کے بعد پروازوں کا آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق اس ہنگامی صورتحال کے نتیجے میں اب تک 209 پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں، جبکہ 22,798 سے زائد مسافر ایئرپورٹس پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔
آتش فشانی راکھ کی شدت کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں اسکول اور تعلیمی سرگرمیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث شہریوں کی جانب سے آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں دشواری کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے، اور باہر نکلتے وقت ماسک و حفاظتی چشمے استعمال کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ قدرتی آفات کے حکام نے واضح کیا ہے کہ فی الحال علاقے کو سونامی کا فوری خطرہ لاحق نہیں ہے، تاہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ آناک کراکاٹوا آتش فشاں جاوا اور سماٹرا کے درمیان آبنائے سنڈا میں واقع ہے۔ یہ انتہائی حساس علاقہ شمار ہوتا ہے، جہاں 2018 میں اسی آتش فشاں میں شدید دھماکے کے بعد تباہ کن سونامی آیا تھا جس سے بھاری جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔