لاہور (پاک ٹوڈے): انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے اپنی تازہ رپورٹ میں ملک میں مذہبی اقلیتوں کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ توہین مذہب کے الزامات، جبری شادیوں، جبری تبدیلی مذہب اور نفرت انگیز تقاریر کے واقعات اقلیتی برادریوں کے مساوی شہری حقوق کے حصول میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ کمیشن نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کو 24 سفارشات پیش کی ہیں۔
ایچ آر سی پی کی رپورٹ 2025-26 کے مطابق نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز ایکٹ 2025 کی منظوری کے باوجود متعلقہ کمیشن تاحال فعال نہیں ہوسکا۔ رپورٹ میں توہین مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کو درپیش قانونی مشکلات اور مبینہ طور پر لوگوں کو ایسے مقدمات میں پھنسانے والے گروہوں کے خلاف تحقیقات نہ ہونے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملوں اور انہیں نقصان پہنچانے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بعض معاملات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
ایچ آر سی پی نے مسیحی اور ہندو برادریوں کی لڑکیوں کے اغوا، کم عمری کی شادیوں اور جبری تبدیلی مذہب کے واقعات کو بھی تشویش ناک قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق غربت، پولیس کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے اور امتیازی سماجی رویوں کے باعث متاثرہ خاندانوں کو انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹ میں تعلیمی نصاب میں مذہبی عدم برداشت کو فروغ دینے والے مواد اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو محدود نوعیت کی ملازمتوں تک محدود رکھنے کے رجحان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
کمیشن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز ایکٹ پر فوری عمل درآمد کرتے ہوئے متعلقہ کمیشن کو فعال کیا جائے، مذہبی بنیادوں پر تشدد پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور جبری شادیوں و جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے لیے قانون سازی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کی ڈائریکٹر فرح ضیا نے مذہبی اقلیتوں سے متعلق ریاستی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انسانی حقوق کی کارکن نبیلہ فیروز بھٹی نے شیخوپورہ میں مسیحی طبی معالج کامران گل کی ڈسپنسری کو 9 اکتوبر کو ہجوم کی جانب سے آگ لگائے جانے کے واقعے کا حوالہ دیا۔
ایچ آر سی پی پنجاب کے نائب چیئرمین راجہ اشرف نے کہا کہ توہین مذہب کے الزامات بعض کمزور افراد کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں، جبکہ کمیشن کی سابق چیئرپرسن حنا جیلانی نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ جمہوری نظام میں اکثریت اور اقلیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
