لاہور (پاک ٹوڈے): نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور زون نے سائبر جرائم کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے سات غیر قانونی کال سینٹرز سے 281 ملزمان کو گرفتار کرلیا، جن میں 21 غیر ملکی شہری اور 20 خواتین بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق متعلقہ کال سینٹرز مبینہ طور پر مالی فراڈ، آن لائن ہراسانی اور ہنی ٹریپنگ جیسی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
لاہور میں جمعے کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف عامر نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سائبر جرائم کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لاہور میں غیر قانونی کال سینٹرز کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عاطف عامر کے مطابق گرفتار افراد میں 260 پاکستانی اور 21 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ غیر ملکی ملزمان میں 12 چینی، پانچ فلپائنی، دو ویتنامی، ایک ملائیشین اور ایک نیپالی شہری شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سائبر جرائم میں ملوث غیر ملکی شہریوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
کارروائیوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے نے 362 موبائل فونز، 191 کمپیوٹر سسٹمز، 74 لیپ ٹاپس، 127 دیگر ڈیجیٹل آلات اور 550 سمز قبضے میں لیں۔ حکام کے مطابق ضبط شدہ سامان فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے تاکہ شواہد کی جانچ اور مبینہ جرائم میں اس کے استعمال سے متعلق حقائق کا تعین کیا جاسکے۔
این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے بچوں سے متعلق فحش مواد کے مقدمات میں تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے مطابق ایجنسی ایسے جرائم کی نشاندہی اور تحقیقات کو مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے اداروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے، جبکہ بین الاقوامی اے آئی اداروں کے ساتھ معاہدے بھی طے پا چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیے گئے تجزیے کے ذریعے گوجرانوالہ میں ایک ملزم کی شناخت کرکے اسے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
عاطف عامر کے مطابق ایجنسی آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی تصاویر و ویڈیوز کے غیر قانونی پھیلاؤ سے متعلق مقدمات پر بھی کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ موبائل والٹس اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے مبینہ جعلی لین دین اور مالی فراڈ کے معاملات کی تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پانچ مقدمات اور 10 انکوائریوں کے دوران مجموعی طور پر ایک کروڑ 92 لاکھ 46 ہزار 240 روپے برآمد کیے جاچکے ہیں۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ این سی سی آئی اے کو انسدادِ منی لانڈرنگ سے متعلق ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں، جبکہ بدلتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے ادارے کی عملی صلاحیت اور وسائل کو بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔
